صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 163 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 163

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۶۳ ۸۰ - كتاب الدعوات تشریح : التأمين : آمین کہنا۔زیر باب روایت میں بیان ہوا ہے: فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔سو جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے موافق ہو گی تو جو قصور اُس کے ہو چکے ہیں اس کی مغفرت کی جائے گی۔فرشتوں کی آمین سے موافقت کیسے ہو سکتی ہے ؟۔بلاشبہ اذن الہی سے۔۲۔یہ موافقت اور اذن الہی کے نصیب ہو سکتا ہے؟ اُسے جو فرشتہ صفت بنے گا۔فرشتوں کی صفت کیا ہے؟ فرماتا ہے: وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (النحل: ۵۱) اور جس بات کا انہیں حکم دیا جاتا ہے (وہی) کرتے ہیں۔پس وہ انسان جو اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر کامل اطاعت کر کے فرشتہ صفت بنے گا اسی کی آمین فرشتوں سے موافق ہو گی۔۳۔اور وہ کون سا امام ہے ؟ ے جس کے آمین کہنے کے ساتھ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں ؟ اول طور پر وہی جسے خدا نے امام بنایا ہے اور پھر اس کے طفیل اس کی غلامی میں وہ تمام لوگ جو اس کے ظل اور بروز بنتے ہیں اور یوں اطاعت کی نالی سے یہ فیض درجہ بدرجہ ملتا جاتا ہے۔آخرین کے اس دور میں جو لوگ وثلةُ مِنَ الأخرين (الواقعة: (۴) کے ذیل میں آتے ہیں وہ جب وقت کے امام اور خلیفہ کی آمین کے ساتھ آمین ملائیں گے تو کیا بعید ان کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے اور وہ بھی مغفرت کی چادر کے نیچے آجائیں۔بَاب ٦٤: فَضْلُ التَّهْلِيل لا الہ الا اللہ کہنے کی فضیلت ٦٤٠٣: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۶۴۰۳: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ مَّالِكِ عَنْ سُمَةٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ انہوں نے مالک سے، مالک نے نئی سے ہمیں نے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ ابو صالح سے، ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لَا إِله إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ۔۔۔قَالَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا دن میں سو بار کہا۔یعنی ”ایک اللہ کے سوا کوئی شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ ہے ، اس کے لئے سب حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر مَرَّةٍ كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابِ ہے تو یہ کلمات اس کے لئے دس گردنوں کے وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ آزاد کرنے کے برابر ثواب کا موجب ہوں گے اور مِائَةُ سَيِّئَةٍ وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِّنَ اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کی سو ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور پچھلوں میں سے بھی ایک بڑی جماعت ہے۔“