صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 162 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 162

صحیح البخاری جلد ۱۵ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ۸۰ - كتاب الدعوات انجیل میں لکھا گیا ہے کہ جو لوگ تم پر لعنت کریں اُن کے لئے برکت چاہو مگر قرآن کہتا ہے کہ تم اپنی خودی سے کچھ بھی نہ کرو۔تم اپنے دل سے جو خدا کی تجلیات کا گھر ہے فتویٰ پوچھو کہ ایسے شخص کے ساتھ کیا معاملہ چاہیے۔پس اگر خدا تمہارے دل میں ڈالے کہ یہ لعنت کرنے والا قابل رحم ہے اور آسمان میں اس پر لعنت نہیں تو تم بھی لعنت نہ کرو تا خدا کے مخالف نہ ٹھہرو۔لیکن اگر تمہارا کانشنس اس کو معذور نہیں ٹھہراتا اور تمہارے دل میں ڈالا گیا ہے کہ آسمان پر اس شخص پر لعنت ہے تو تم اس کے لئے برکت نہ چاہو جیسا کہ شیطان کے لئے کسی نبی نے برکت نہیں چاہی اور کسی نبی نے اس کو لعنت سے آزاد نہیں کیا۔مگر کسی کی نسبت لعنت میں جلدی نہ کرو کہ بہتیری بدظنیاں جھوٹیاں ہیں اور بہتیری لعنتیں اپنے ہی پر پڑتی ہیں۔سنبھل کر قدم رکھو اور خوب پڑتال کر کے کوئی کام کرو اور خدا سے مدد مانگو کیونکہ تم اندھے ہو ، ایسا نہ ہو کہ عادل کو ظالم ٹھہراؤ اور صادق کو کاذب خیال کرو۔اس طرح تم اپنے خدا کو ناراض کر دو اور تمہارے سے نیک اعمال حبط ہو جاویں۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۱) بَاب ٦٣ : التَّأْمِينُ آمین کہنا ٦٤٠٢: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۶۴۰۲ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَاهُ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا، کہا: زُہری نے عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي اسے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے سعید بن مسیب هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے، سعید نے حضرت ابوہریرۃا سے، حضرت وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمَنُوا ابوہریرہ نے نبی صلی الم سے روایت کی۔آپ نے فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمَنُ فَمَنْ وَافَقَ فرمایا: جب قرآن پڑھنے والا آمین کہے تو تم بھی تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا آمین کہو کیونکہ ملائکہ بھی آمین کہتے ہیں۔سو جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے موافق ہو گی تو جو قصور اُس کے ہو چکے ہیں اس کی مغفرت کی جائے گی۔تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔أطرافه ۷۸۰، ۷۸۱، ۷۸۲، ٤٤٧٥۔