صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 161
صحیح البخاری جلد ۱۵ 141 ۸۰ - كتاب الدعوات رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْلًا حضرت عائشہ نے کہا: السّامُ عَلَيْكُمْ وَلَعَنَكُمُ يَا عَائِشَةُ عَلَيْكِ بِالرّفْقِ وَإِيَّاكِ وَالْعُنْفَ اللهُ وَغَضِبَ عَلَيْكُمْ۔( تم پر ہلاکت ہو اور تم پر أَوِ الْفُحْشَ قَالَتْ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا لعنت ہو اور تم پر اللہ کا غضب ہو ) رسول اللہ صلی قَالُوا قَالَ أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ ! ٹھہرو، نرمی کو اختیار کرو۔سختی سے یا (فرمایا:) بد زبانی سے بچتی رہو۔حضرت عائشہ نے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں جو انہوں نے کہا؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے نہیں سنا جو میں رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ فَيُسْتَجَابُ لِي فِيهِمْ وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِيَّ۔نے کہا؟ میں نے اُن ہی کے سلام کا اُنہیں جواب دیا ہے اور میری ان کے متعلق قبول کی جائے گی اور ان کی میرے متعلق نہیں قبول کی جائے گی۔أطرافه ٢٩٣٥، ٦٠٢٤، ٦٠٣٠، ٢٥٦، ٦٣٩٥، ٦٩٢٧۔تشریح : يُسْتَجَابُ لَنَا فِي الْيَهُودِ وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِينَا: یہود کے متعلق ہماری دعا قبول کی جاتی ہے اور ان کی دعا ہمارے متعلق قبول نہیں کی جاتی۔قرآن کریم نے سورۃ البقرۃ کے رکوع نمبر ۵ سے رکوع نمبر 1 اتک یہود پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات کا ذکر اور ان کی نافرمانیوں اور سرکشیوں کا ذکر کر کے ان کے اس بد انجام کا ذکر فرمایا ہے جب وہ مورد غضب الہی ہوئے۔فرماتا ہے : فَبَاوُوُ بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ (البقرۃ:۹۱) پس یہ لوگ غضب کے بعد غضب کا مورد ہو گئے ہیں۔اور اپنی تمام نافرمانیوں کی بدولت مورد لعنت ہوئے۔فرماتا ہے : فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَى الكفرين (البقرة: ٩٠) پس ایسے کافروں پر اللہ کی لعنت ہے۔قومیں جب انحطاط کا شکار ہوتی ہیں تو قومی کردار اس قدر مسخ ہو جاتے ہیں کہ روز مرہ کے معمولات میں وہ اپنی اخلاقی گراوٹ کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔زیر باب روایت میں یہ ذکر ہے کہ بعض یہودی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ سے ملنے آئے اور روایت کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا واقعہ ہے کیونکہ حضرت عائشہ بھی ساتھ تھیں تو انہوں نے آپ کے گھر آکر آپ کو جو سلام اور grecting کی وہ یہ تھی السام عليك ( آپ پر ہلاکت ہو ) جتنا بھی کوئی بد تہذیب اور سفلی مزاج کا انسان ہو وہ جب کسی کے گھر اسے ملنے آئے تو وہ اس طرح اس سے greeting نہیں کرتا اور وہ شخصیت اور برگزیدہ وجو د جو اپنے تمام تر روحانی مراتب عالیہ کے ساتھ ساتھ ان کا متفقہ بادشاہ اور حکمران تھا۔کیا کوئی قوم اپنے حکمرانوں سے اس طرح ملا کرتی ہے ؟ کیار عایا اپنے سر براہ مملکت کو یوں greeting کیا کرتے ہیں؟ اُس قوم نے اپنے عمل سے اپنا ملعون ہونا ثابت کر دیا ہے۔