صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 160
صحیح البخاری جلد ۱۵ 14+ ۸۰ - كتاب الدعوات ريح: الدُّعَاءُ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الجمعة: اس خاص گھڑی میں دعا کرنا جو جمعہ کے دن ہوتی ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: حدیثوں کی جو مختلف تشریح کرنے والے ہیں، وہ اس پر یہ کہتے ہیں کہ صرف نماز پڑھنے کے دوران ہی نہیں بلکہ خطبہ جمعہ بھی جمعہ کا حصہ ہے، یہ بھی اسی طرح اس میں آجاتا ہے ، صرف کھڑے ہونا نہیں۔اور بعض اس سے زیادہ وقت دیتے ہیں کہ یہ وقت شام تک چلتا ہے۔تو بہر حال اس حدیث میں یہ ہے کہ مسلمان نماز پڑھتے ہوئے جو بھی بھلائی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ وہ اس کو عطا کر دیتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ گھڑی بہت مختصر ہے بہت تھوڑی ہے۔پس اس موقع سے ہر ایک کو فائدہ اٹھانا چاہیے، اپنے لئے بھی دعائیں کریں، جماعت کے لئے بھی دعائیں کریں۔کسی کو کیا پتہ کہ وہ گھڑی کس وقت آتی ہے، اس لئے پہلے وقت میں آنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔“ خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۲۰ / اکتوبر ۲۰۰۶، جلد ۴ صفحه ۵۳۵) بَاب ٦٢ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْتَجَابُ لَنَا فِي الْيَهُودِ وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِينَا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: یہود کے متعلق ہماری دعا قبول کی جاتی ہے اور ان کی دعا ہمارے متعلق قبول نہیں کی جاتی ٦٤٠١: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۶۴۰۱: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَن عبد الوہاب ( بن عبد المجید ثقفی) نے ہمیں بتایا۔ابْن أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ الله ایوب نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے ابن ابی عَنْهَا أَنَّ الْيَهُودَ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ ملیکہ سے ، ابن ابی ملیکہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ قَالَ عنہا سے روایت کی کہ یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَعَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ السَّامُ عَلَيْكُمْ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: السّامُ عَلَيْكَ۔وَلَعَنَكُمُ اللهُ وَغَضِبَ عَلَيْكُمْ فَقَالَ (آپ پر ہلاکت ہو) آپ نے فرمایا: وَعَلَيْكُمْ۔