صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 159
صحیح البخاری جلد ۱۵ عِنْدِي۔۱۵۹ ۸۰ - كتاب الدعوات وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ اور میری نادانی سے اور جو زیادتی میں نے اپنے مِنِّي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَجِدِّي کام میں کی ہے اُس سے اور نیز اس بات کو جو تو مجھے وَخَطَايَايَ وَعَمْدِي وَكُلُّ ذَلِكَ میں بہتر جانتا ہے، (ان سب سے ) درگزر فرما۔اے اللہ ! جو غلطی میں نے مذاق سے یا سنجیدگی سے کی ہے اس کو اور نیز میرے تمام قصوروں کو جو بھول چوک سے ہوئے ہوں یا ان قصوروں کو جو میں نے جان بوجھ کر کئے ہوں اُن سب سے پردہ پوشی فرماتے ہوئے مجھ سے درگزر فرما اور یہ سب باتیں مجھ میں موجود ہیں۔طرفه: ٦٣٩٨۔الْجُمُعَةِ بَاب ٦١: الدُّعَاءُ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ اس خاص گھڑی میں دعا کرنا جو جمعہ کے دن ہوتی ہے ٦٤٠٠: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۶۴۰۰: مدد نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ایوب نے ہمیں خبر دی۔عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، محمد نے حضرت اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ کہا: ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ میں سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ وَهُوَ قَائِمٌ ایک ایسی گھڑی ہے کہ جس کو جو مسلمان بھی ایسے يُصَلِّي يَسْأَلُ اللهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ وقت میں پالیتا ہے کہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو تو جو بھلائی بھی وہ مانگے گا تو ضرور ہی وہ اس کو عطا فرمائے وَقَالَ بِيَدِهِ قُلْنَا يُقَلِّلُهَا يُزَرِّدُهَا۔أطرافه: ٩٣٥، ٥٢٩٤۔گا اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ہم سمجھے کہ آپ کی یہ مراد ہے کہ وہ گھڑی بہت ہی تھوڑی ہے۔یعنی ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ تھوڑی دیر تک رہتی ہے۔