صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 157
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۵۷ ۸۰ - كتاب الدعوات سے مسلمان ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لئے اکثر دعا کیا کرتے تھے۔اس لئے بخل کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں کرنی چاہیئے اور حقیقہ موذی نہیں ہونا چاہیئے۔شکر کی بات ہے کہ ہمیں اپنا کوئی دشمن نظر نہیں آتا جس کے واسطے دو تین مرتبہ دعانہ کی ہو، ایک بھی ایسا نہیں اور یہی میں تمہیں کہتا ہوں اور سکھاتا ہوں۔خدا تعالیٰ اس سے کہ کسی کو حقیقی طور پر ایذا پہنچائی جاوے اور ناحق بخل کی راہ سے دشمنی کی جاوے، ایسا ہی بیزار ہے جیسے وہ نہیں چاہتا کہ کوئی اس کے ساتھ ملایا جاوے۔ایک جگہ وہ فصل نہیں چاہتا اور ایک جگہ وصل نہیں چاہتا۔یعنی بنی نوع کا باہمی فصل اور اپنا کسی غیر کے ساتھ وصل۔اور یہ وہی راہ ہے کہ منکروں کے واسطے بھی دعا کی جاوے۔اس سے سینہ صاف اور انشراح پیدا ہوتا ہے اور ہمت بلند ہوتی ہے۔“ (ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۶۹،۶۸) باب ٦٠: قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَرْتُ نی مصلی نیم کا دعا کرنا: اے اللہ! مجھ پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے ان امور میں مجھ سے در گزر فرما جو پیچھے کرنے تھے اور میں نے پہلے کرلئے ، اور جو پہلے کرنے تھے اور میں نے پیچھے کر ڈالے ٦٣٩٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۶۳۹۸: محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ صَبَّاحٍ حَدَّثَنَا عبد الملک بن صباح نے ہمیں بتایا۔شعبہ نے ہم شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ أَبِي سے بیان کیا۔شعبہ نے ابو اسحاق سے، ابو اسحاق مُوسَى عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله نے ابن ابو موسیٰ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا اُن کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت الدُّعَاءِ رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي کی کہ آپ یہ دعا کیا کرتے تھے: اے میرے رب ! وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي كُلِّهِ وَمَا أَنْتَ مجھ پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے میری خطا اور میری أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جہالت اور اپنے ہر معاملے میں جو کام میں نے خَطَايَايَ وَعَمْدِي وَجَهْلِي وَ جِدِئ ! بے جا کیا ہے اس سے در گزر فرما اور نیز اس امر کو 1 فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں "وَهَد لی“ ہے۔(فتح الباری جزءا احاشیہ صفحہ ۲۳۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔