صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 156
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۵۶ ۸۰ - كتاب الدعوات اللهَ عَلَيْهَا فَظَنَّ النَّاسُ أَنَّهُ يَدْعُو دَوس نا فرمان ہو گئے ہیں اور ماننے سے انکار کر دیا عَلَيْهِمْ فَقَالَ اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ ہے۔اس لئے آپ اللہ سے ان کے لیے بددعا کریں۔لوگوں نے سمجھا کہ آپ اُن پر بد دعا کریں أطرافه: ٢٩٣٧، ٤٣٩٢۔گے۔آپ نے دعا کی: اے اللہ ! دوس کو ہدایت دے اور ان کو لے آ۔تشریح : الدُّعَاء لِلمُشرکین : مشرکین کے لیے دعا کرنا۔مشرکین کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا فیض تو ایک جاری چشمہ کی طرح تھا اور اس میں اس قدر انہماک اور درد تھا کہ اپنے وجود کو اس راہ میں فنا کرنے کے لئے مستعد تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: فرمایا: لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: ۴) یعنی کیا تو اس غم سے اپنے تئیں ہلاک کر دے گا کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے ایمان لانے کے لئے اس قدر جانکاہی اور سوز و گداز سے دعا کرتے تھے کہ اندیشہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس غم سے خود ہلاک نہ ہو جاویں۔۔۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ اشارہ فرمایا ہے کہ اے نبی (علیہ السلام)! جس قدر تو عقد ہمت اور کامل توجہ اور سوز وگداز اور اپنی رُوح کو مشقت میں ڈالنے سے ان لوگوں کی ہدایت کے لئے دُعا کرتا ہے، تیری دعاؤں کے پڑ تا ثیر ہونے میں کچھ کمی نہیں ہے لیکن شرط قبولیت دعا یہ ہے کہ جس کے حق میں دعا کی جاتی ہے سخت متعصب اور لا پروا اور گندی فطرت کا انسان نہ ہو ور نہ دُعا قبول نہیں ہو گی۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۲۶) نیز فرمایا: ”بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی میں میرا یہ مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لئے دعا نہ کی جاوے پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہوتا۔ادعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن: (1) میں اللہ تعالیٰ نے قید نہیں لگائی کہ دشمن کے لیے دعا کرو تو قبول نہیں کروں گا بلکہ میرا تو یہ مذہب ہے کہ دشمن کے لئے دعا کرنا یہ بھی سنت نبوی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی