صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 155
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۵۵ ٨٠ - كتاب الدعوات مومن کی تقدیر کا ایک حصہ ہے۔ (خطبات طاہر ، خطبہ جمعہ فرموده یکم جون ۱۹۸۴، جلد ۳ صفحه ۲۸۵) نیز فرمایا: انسان لمبے عرصے تک عرصے تک کسی کے ظلم برداشت کرتا چلا جاتا ہے اور اس کے خلاف بددعا کے لئے زبان نہیں کھولتا لیکن ایک ایسا مقام آجاتا ہے کہ بعض دفعہ خود پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے، بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اذن دیا جاتا ہے کہ اب اس پر بد دعا کرو تو وہ دعا جو ہے وہ بد دعا کی صورت میں سب سے زیادہ قوت کے ساتھ دشمن پر بجلی بن کے گرتی ہے۔ جب اللہ بد دعا کی اجازت دیتا ہے تو پھر اس سے زیادہ قوم کی ہلاکت کو یقینی بنا دینے والی اور کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ قوم کی ہمدردی بعض دفعہ قوم کو نقصان پہنچانے والوں کے لئے بد دعا کی صورت میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ وہ لوگ جو مسلسل قوم کی ہلاکت کے سامان کر رہے ہیں، جن کے ہوتے ہوئے نحوستیں ہی نحوستیں پھیل رہی ہیں، جن کے ہوتے ہوئے شر بڑھ رہے ہیں اور مصیبتیں عام ہو گئی ہیں، جن کے ہوتے ہوئے خیر اُٹھتی چلی جارہی ہے، اگر ان پر بد دعا کی جائے تو یہ بھی در حقیقت جذبۂ رحم ہی سے پھوٹنی چاہیئے۔ قوم پر رحم ان کے لئے بد دعا کا تقاضا کرتا ہے۔ پس اپنے دل کو ٹٹول کر ، اپنی نیتوں کو صاف ستھرا کر کے وہ کام کریں جو انبیاء کی سنت کے مطابق ہوں۔“ ( خطبات طاہر، خطبہ جمعہ فرموده ۱۴ / جولائی ۱۹۹۵، جلد ۱۴ صفحه ۵۰۶ تا ۵۰۸) بَاب ٥٩ : الدُّعَاءُ لِلْمُشْرِكِينَ مشرکین کے لئے دعا کرنا ٦٣٩٧ : حَدَّثَنَا عَلِيَّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ۶۳۹۷: علی بن عبد اللہ مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ ابوالزناد أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اعرج سے ، اعرج الطَّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى رَسُولِ اللهِ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ انہوں نے کہا: حضرت طفیل بن ابن عمرو رسول الله اللَّهِ إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: یا رسول اللہ !