صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 154 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 154

صحیح البخاری جلد ۱۵ اولد ٨٠ - كتاب الدعوات دوسروں کی ہدایت کے لئے سد راہ بنے ہوتے ہیں اس لئے ان کا مٹ جانا ان کے لئے بھی اور پورے معاشرہ کے لئے بھی راحت کا موجب ہوتا ہے اور خس کم جہاں پاک کا باعث بنتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے فتنہ پردازوں کے مٹ جانے کی دعائیں کیں جو شرف قبولیت پا کر اس معاشرے کو امن کا گہوارہ بنا گئیں۔ حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: صا س اسلام ایک متوازن مذہب ہے کوئی جذباتی مذہب نہیں ہے جو یک طرفہ رُخ اختیار ما الله کرے اور پھر اسی سمت چلتا ہی چلا جائے، ئے ، آنحضرت نہ ضرت صلی علیم سے تو ازن سیکھنا چاہئیے۔ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علم جو شدید دشمنوں کے کے ۔ لئے بھی دعا کرنے والے تھے خصوصاً وہ جو جہالت میں ظلم کرتے تھے۔ آپؐ کے متعلق آتا ہے کہ جب بدن زخمی تھا، لہو لہان تھا، اپنے ہی خون سے آپ کے موزے اس طرح بھر گئے تھے اور جوتے کہ چلا نہیں جاتا تھا۔ اپنے خون کی پھسلن بن گئی تھی، اس وقت بھی آپؐ نے ان کے لئے دعا کی کیونکہ آپ جانتے تھے کہ یہ لوگ جاہل ہیں اور ان کو علم نہیں ہے یہ کیا کر رہے ہیں اور کس کے ساتھ کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ائمۃ الکفر کے خلاف، ائمة التکفیر کے خلاف آپ نے بد دعا بھی کی ہے اور ایک مرتبہ نہیں، کئی مرتبہ بد دعا کی ہے کیونکہ بعض دفعہ انسان کی فطرت صحیحہ یہ بتا دیتی ہے کہ بعض لوگ اپنے ظلم اور سفاکی میں ایسا بڑھ چکے ہیں اور امام بن گئے ہیں تکفیر کے ، ان کے مقدر میں ہدایت ہو ہی نہیں سکتی۔ ایسے موقع پر چوٹی کے بعض لوگ جو اس ظلم اور سفاکی کے راہنما ہوں اور لیڈر ہوں اور اپنی شرارت میں پیچھے ہٹنے کی بجائے دن بدن آگے بڑھتے چلے جا رہے ہوں، ان کے لئے بد دعا سنت نبوی ہے۔ چنانچہ حضرت ابن عباس کی روایت ہے بخاری میں کہ جنگ بدر کے وقت بعض ائمۃ التکفیر کے خلاف آ آنحضرت صلی اہل علم نے نام لے لے کر بد دعائیں کیں اور پھر اللہ تعالی نے آپ کو بتایا کہ ان کی لاشیں کہاں کہاں پڑی ہوں گی۔ (السیرۃ الحلبیہ جلد دوم نصف آخر زیر غزوہ بدر صفحه ۴۰۰) چنانچه وہ کہتے ہیں کہ ہم نے دیکھا کہ ایسے بد حال میں ان کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں کہ دھوپ نے ان کو متغیر کر دیا تھا اور وہ عبرت کا نشان بنے ہوئے تھے۔ اس لئے سنت نبوی کے مطابق وہ لوگ جو آنکھیں کھول کر شرارت اور فساد کی نیت سے اور نہایت ظالمانہ بے باکی کے ساتھ دن بدن مظالم میں بڑھتے چلے جارہے ہیں ان کے خلاف بد دعا بھی