صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 153 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 153

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۵۳ ٨٠ - كتاب الدعوات وَاللَّعْنَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ ! ٹھہرو، اللہ تعالیٰ ہر کام میں وَسَلَّمَ مَهْلًا يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللهَ تَعَالَی نرمی پسند کرتا ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ فَقَالَتْ نبی ! کیا آپ نے نہیں سنا جو وہ کہتے ہیں ؟ آپ نے يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا يَقُولُونَ فرمایا: کیا تم نے نہیں سنا کہ میں اُن کو وہی جواب قَالَ أَوَلَمْ تَسْمَعِي أَنِّي أَرُدُّ ذَلِكِ دیتا ہوں، میں کہتا ہوں وَعَلَيْكُمْ ۔ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ وَعَلَيْكُمْ۔ أطرافه: ٢٩٣٥، ٦٠٢٤ ، ٦٠٣٠، ٦٢٥٦، ٦٤٠١، ٦٩٢٧۔ ٦٣٩٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ۱۳۹۶ : محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ (محمد بن حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عبد الله ) انصاری نے ہمیں بتایا۔ ہشام بن حسان حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن سیرین نے ہمیں حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي بتایا۔ عبیدہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت علی بن طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ الى طالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ کہا: ہم خندق والے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الْخَنْدَقِ فَقَالَ مَلَأَ اللهُ قُبُورَهُمْ ساتھ تھے۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ ان کی قبروں اور وَبُيُوتَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ ان کے گھروں کو آگ سے بھرے۔ انہوں نے ہمیں مصروف رکھا اور صلوٰۃ وسطی (درمیانی نماز ) الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ وَهِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ۔ أطرافه: ۲۹۳۱، ٤١١١، 4533۔ کا موقع نہیں دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، اور وہ نماز عصر تھی۔ تشریح : الدُّعَاءُ عَلَى الْمُشْرِ كين: مشرکوں کے مغلوب ہونے کی دعا کرنا۔ زیر باب روایات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دعاؤں کا ذکر ہے جو آپ نے مشرکین کے خلاف کیں۔ محاورہ زبان میں کسی کے خلاف کی جانے والی دعا کو بد دعا کہا جاتا ہے۔ در حقیقت نبی کی کوئی دعا ”بد“ نہیں ہوتی، ایسے ائمه الکفر جو اپنے ظلموں اور سیاہ کاریوں ۔ رجو اپنے علموں اور سیاہ کاریوں سے اپنے اوپر ہدایت کا دروازہ بند بہ ہدایت کا دروازہ بند کر لیتے ہیں اور ان کا مزید زنا ہیں اور ان کا مزید زندہ رہنا خودان کے نامہ اعلم اعمال میں مزید روسیاہیوں اور ظلموں کا دن بد وں کا دن بدن اضافہ کرنے اور ان کے ۔ فہ کرنے اور ان کے لئے آخرت کے عذابوں کے بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔ ان کی زندگی کا چراغ جتنا جلدی بجھ جائے ان کے لئے اتنا ہی بہتر ہے نیز ایسے لوگ