صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 150 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 150

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۵۰ ۸۰ - كتاب الدعوات نہیں ہوسکتیں۔معلوم ہوتا ہے کہ کسی خبیث آدمی نے اپنی طرف سے ایسی باتیں ملا دی ہیں۔گو ہم نظر تہذیب سے احادیث کو دیکھتے ہیں لیکن جو حدیث قرآن کریم کے بر خلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت کے برخلاف ہو اُس کو ہم کب مان سکتے ہیں۔اس وقت احادیث جمع کرنے کا وقت تھا، گو انہوں نے سوچ سمجھ کر احادیث کو درج کیا تھا مگر پوری احتیاط سے کام نہیں لے سکے، وہ جمع کرنے کا وقت تھا لیکن اب نظر اور غور کرنے کا وقت ہے۔آثار نبی جمع کرنابڑے ثواب کا کام ہے لیکن یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جمع کرنے والے خوب غور سے کام نہیں لے سکتے۔اب ہر ایک کا اختیار ہے کہ خوب غور اور فکر سے کام لے۔جو ماننے والی ہو وہ مانے اور جو چھوڑنے والی ہو وہ چھوڑ دے۔ایسی بات کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر (معاذ اللہ ) جادو کا اثر ہو گیا تھا، اس سے تو ایمان اُٹھ جاتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے: اِذْ يَقُولُ الظَّلِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا (بنی اسرائیل: ۴۸) ایسی ایسی باتیں کہنے والے تو ظالم ہیں نہ مسلمان۔یہ تو بے ایمانوں اور ظالموں کا قول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر (معاذ اللہ ) سحر اور جادو کا اثر ہو گیا تھا۔اتنا نہیں سوچتے کہ جب (معاذ اللہ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال ہے تو پھر اُمت کا کیا ٹھکانا؟ وہ تو پھر غرق ہوگئی۔معلوم نہیں ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جس معصوم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء متنِ شیطان سے پاک سمجھتے آئے ہیں یہ اُن کی شان میں ایسے ایسے الفاظ بولتے ہیں۔“ ( ملفوظات، جلد ۵ صفحہ ۳۴۲۸، ۳۴۹) باب ٥٨ : الدُّعَاءُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مشرکوں کے مغلوب ہونے کی دعا کرنا وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ قَالَ النَّبِيُّ اور حضرت ابن مسعودؓ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ أَعِنِّي نے فرمایا: اے اللہ ! ان کو مغلوب کرنے کے لئے عَلَيْهِمْ بِسَبْع كَسَبْعِ يُوسُفَ وَقَالَ میری سات سالوں سے مد دکر جو یوسف کے سات اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلِ وَقَالَ ابْنُ سالوں کی طرح ہوں اور دعا کی: اے اللہ ! ابو جہل عُمَرَ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے نپٹ اور حضرت ابن عمر نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ فِي الصَّلَاةِ اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا وسلم نے نماز میں یہ دعا کی: اے اللہ ! فلاں فلاں