صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 149 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 149

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۴۹ ۸۰ کتاب الدعوات ہے۔قبولیت کے واسطے اضطراب شرط ہے۔جیسا کہ فرمایا: آمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ (النمل: ۶۳)۔“ (ملفوظات جلد ۵ صفحه ۴۵۵) زیر باب روایت میں جادو کا جو ذکر ہے اس پر تفصیلی نوٹ کے لئے دیکھئے کتاب الطلب باب نمبر ۴۷۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "" یہ روایت جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی گئی ہے اس کا صرف اتنا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرشتوں کے ذریعہ سے خبر دی کہ یہودیوں نے آپ پر جادو کیا ہوا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس طرح جادو کا اثر تسلیم کیا جاتا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہو بھی گیا تھا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جادو ٹونے کی چیزیں نکال کر زمین میں دفن کر دیں تو یہودیوں کو خیال ہو گیا کہ انہوں نے جو جادو کیا تھا وہ باطل ہو گیا ہے۔اس روایت سے جہاں یہودیوں کے اس عناد کا پتہ چلتا ہے جو اُن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھا، وہاں یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول تھے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ان تمام باتوں کا علم دیدیا گیا جو یہودی آپ کے خلاف کر رہے تھے۔پس آپ کو غیب کی باتوں کا معلوم ہو جانا اور یہودیوں کا اپنے مقصد میں ناکام رہنا آپ کے سچارسول ہونے کی واضح اور بین دلیل ہے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ الفلق، جلد ۱۰ صفحه ۵۴۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”جادو بھی شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔رسولوں اور نبیوں کی یہ شان نہیں ہوتی کہ ان پر جادو کا کچھ اثر ہو سکے بلکہ ان کو دیکھ کر جادو بھاگ جاتا ہے جیسے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: لَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ آئی (طه:۷۰) دیکھو حضرت موسیٰ کے مقابل پر جادو تھا۔آخر موسیٰ غالب ہوا کہ نہیں ؟ یہ بات بالکل غلط ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ پر جادو غالب آگیا۔ہم اس کو کبھی نہیں مان سکتے۔آنکھ بند کر کے بخاری اور مسلم کو مانتے جانا یہ ہمارے مسلک کے برخلاف ہے۔یہ تو عقل بھی تسلیم نہیں کر سکتی کہ ایسے عالی شان نبی پر جادو اثر کر گیا ہو۔ایسی باتیں کہ اس جادو کی تاثیر سے (معاذ اللہ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حافظہ جاتا رہا، یہ ہو گیا اور وہ ہو گیا، کسی صورت میں صحیح