صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 148 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 148

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۴۸ ۸۰ - كتاب الدعوات الشَّيَاطِينِ قَالَتْ فَأَتَى رَسُولُ اللهِ وہاں گئے اور پھر حضرت عائشہ کے پاس لوٹ آئے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهَا عَن فرمانے لگے: اللہ کی قسم ! اس کا پانی ایسا تھا کہ جیسے الْبِتْرِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ فَهَلًا مہندی کا شیرہ اور وہاں کے کھجور کے درخت ایسے أَخْرَجْتَهُ فَقَالَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ شَفَانِي تھے جیسے سانپوں کے پھن۔بیان کرتی تھیں: اللهُ وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور آپ نے اس کنوئیں کا حال بتایا۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ شَرًا۔نے اس جادو ٹونے کو نکلوایا کیوں نہ؟ آپ نے فرمایا: مجھے تو اللہ نے شفا دے دی ہے اور میں نے ناپسند کیا کہ لوگوں کے برخلاف شر کو بھڑ کاؤں۔زَادَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدِ عیسی بن یونس اور لیث بن سعد نے ہشام سے، عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ہشام نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے حضرت سُحِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے اتنا اور بیان کیا کہ فَدَعَا۔۔وَدَعَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ۔وہ بیان کرتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا اور آپ نے بہت بہت دعا کی۔اور پھر ساری حدیث بیان کی۔أطرافه ۳۱۷۰، ۳۲۶۸، ٥۷۶۳، ٥٧٦٥، ٥٧٦٦، ٦٠٦٣۔تَكْرِيرُ الله عَاء: دعا کو بار بار دہرانا۔گھبراہٹ، پریشانی اور فکر کے موقع کا طبعی تقاضا ہوتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ سے بار بار دعا مانگے اور اس کی مدد اور نصرت کا شدت سے طالب ہو۔اس باب میں ایسے ہی ایک موقع کا ذکر کر کے سنت نبوی صلی اللہ تم سے بار بار دعا کرنے کی مثال پیش کی گئی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: یاد رکھو کہ خدا تعالی بڑا بے نیاز ہے۔جب تک کثرت سے اور بار بار اضطراب سے دعا نہیں کی جاتی وہ پروا نہیں کرتا۔دیکھو کسی کی بیوی یا بچہ بیمار ہو یا کسی پر سخت مقدمہ آجاوے تو ان باتوں کے واسطے اس کو کیسا اضطراب ہوتا ہے۔پس دعا میں بھی جب تیک سچی تڑپ اور حالت اضطراب پیدا نہ ہو، تب تک وہ بالکل بے اثر اور بیہودہ کام