صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 147 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 147

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۴۷ ۸۰ - كتاب الدعوات بَاب ٥٧: تَكْرِيرُ الدُّعَاءِ دعا کو بار بار دہرانا طُبَّ حَتَّى إِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ صَنَعَ الشَّيْءَ وَمَا صَنَعَهُ وَإِنَّهُ دَعَا رَبَّهُ ثُمَّ قَالَ أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ ٦٣٩١: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ :۶۳۹۱: ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ هِشَامٍ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ( بن عروہ) سے ، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے ا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، یہاں تک کہ آپ کو یہ خیال ہو تا کہ آپ نے کوئی کام کیا ہے حالانکہ آپ نے اسے نہ کیا ہوتا اور آپ نے اپنے رب سے دعا کی، پھر فرمانے لگے: (عائشہ !) أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ فَقَالَتْ کیا تمہیں معلوم ہوا ہے کہ اللہ نے مجھے وہ بات عَائِشَةُ وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ بتادی جس کے متعلق میں نے اس سے پوچھا تھا۔جَاءَنِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ حضرت عائشہ نے کہا: یارسول اللہ !وہ کیا ہے ؟ آپ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ فَقَالَ نے فرمایا: میرے پاس دو آدمی آئے۔اُن میں سے أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ ایک میرے سرہانے کے قریب بیٹھ گیا اور دوسرا قَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ میرے پاؤں کے قریب، تو ان میں سے ایک نے بْنُ الْأَعْصَمِ قَالَ فَبِمَاذَا قَالَ فِي اپنے ساتھی سے پوچھا: اس شخص کو کیا تکلیف ہے ؟ مُشْط وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةٍ قَالَ تو اس نے کہا: (کہتے ہیں) جادو کیا گیا ہے۔اس نے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا: فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي ذَرْوَانَ وَذَرْوَانُ بِنْرٌ لبید بن اعصم نے۔اس نے پوچھا: کس میں ؟ بتایا: فِي بَنِي زُرَيْقٍ قَالَتْ فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ کُنگھی اور کنگھی کے بالوں میں اور نر کھجور کے خوشے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى کے غلاف میں۔اس نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ بتایا: عَائِشَةَ فَقَالَ وَاللهِ لَكَأَنَّ مَاءَهَا ذروان میں اور ذروان بنی زریق کے محلے میں کنواں نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُؤُوسُ ہے۔فرماتی تھیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم