صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 146
صحیح البخاری جلد ۱۵ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔أطرافه: ٢٨٢٢، ٦٣٦٥ ، ٦٣٧٠، ٦٣٧٤ - ۱۴۶ ۸۰ - كتاب الدعوات فتنے اور عذاب قبر سے تیری پناہ لیتا ہوں۔يح : التَّعَوذُ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا: دنیا کے فتنہ سے پناہ مانگنا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ (البقرۃ: ۲۰۱) فرماتا ہے: بعض لوگ ایسے ہیں جو خدا تعالیٰ سے صرف دنیا ہی مانگتے ہیں۔جیسے عیسائی ہیں۔وہ یہی دعا کرتے ہیں کہ ”ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے“ (متی باب ۱۱:۶) انہیں حرام و حلال سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔انہیں کسی چیز کے مفید یا مضر ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ان کا مطمع نظر محض دنیا طلبی ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا کے ساتھ حَسَنَة کا لفظ استعمال نہیں کیا۔جس میں یہ اشارہ ہے کہ ایسے لوگ صرف دنیا پر جان دیتے ہیں حالانکہ خالی دنیوی عزت جس کے ساتھ اُخروی عزت نہ ہو ایک لعنت ہوتی ہے۔جیسے یہود کو آجکل خالی دنیوی عزت ملی ہوئی ہے۔اسی طرح عیسائیوں کو صرف دنیوی عزت ملی ہوئی ہے مگر اُخروی عزت سے انہیں کوئی حصہ نہیں ملا۔اسی لئے فرمایا کہ وَمَالَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔یعنی ہم انہیں دنیا تو دے دیتے ہیں مگر اُخروی انعامات میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔لیکن دوسری طرف خالی اخروی عزت بھی ایک بے ثبوت چیز ہوتی ہے۔ثبوت والی چیز وہی ہوتی ہے جس میں دین اور دنیا دونوں اکٹھے ملیں۔اسی لئے فرمایا کہ ایک اور گروہ ایسا ہے جو یہ دعا کرتا رہتا ہے کہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرة: ۲۰۲) یعنی الہی ہمیں دنیا میں بھی عزت بخش اور آخرت میں بھی ہمارے مقام کو بلند کر۔اگر ہمیں دنیا ملے تو ہم اُسے اپنی ذات کے لئے استعمال نہ کریں بلکہ تیرے دین کی شوکت ظاہر کرنے کیلئے استعمال کریں اور تیری رضا اور خوشنودی کے لئے اُسے صرف کریں۔اگر ایسا ہو تو پھر انسان کو دنیا میں بھی عزت ملتی ہے اور خد اتعالیٰ کے حضور بھی اس کا مرتبہ بڑھتا ہے۔یہ دُعا جو اسلام نے ہمیں سکھائی ہے بظاہر بہت چھوٹی سی دعا ہے لیکن ہر قسم کی انسانی ضرورتوں پر حاوی ہے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ البقرہ، آیت ۲۰۱ - ۲۰۲، جلد ۲ صفحه ۴۴۵،۴۴۴)