صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 145
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۴۵ ۸۰ - كتاب الدعوات رَضِيَ ہے کہ مومن کو دُنیا کے حصول میں حسنات الآخرۃ کا خیال رکھنا چاہیے اور ساتھ ہی حسنة الدنیا کے لفظ میں ان تمام بہترین ذرائع حصولِ دنیا کا ذکر آگیا ہے جو ایک مومن مسلمان کو حصول دُنیا کے لئے اختیار کرنے چاہئیں۔دُنیا کو ہر ایسے طریق سے حاصل کرو جس کے اختیار کرنے سے بھلائی اور خوبی ہی ہو ، نہ وہ طریق جو کسی دوسرے بنی نوع انسان کی تکلیف رسائی کا موجب ہو ، نہ ہم جنسوں میں کسی عار و شرم کا باعث۔ایسی دنیا بے شک حسنۃ الآخرۃ کا موجب ہو گی۔“(ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۳۶۵) نیز فرمایا: ”انسان اپنے نفس کی خوشحالی کے واسطے دو چیزوں کا محتاج ہے۔ایک دنیا کی مختصر زندگی اور اس میں جو کچھ مصائب، شدائد، ابتلا و غیرہ پیش آتے ہیں اُن سے امن میں رہے۔دوسرے فسق و فجور اور روحانی بیماریاں جو اسے خدا سے دور کرتی ہیں اُن سے نجات پاوے تو دنیا کا حسنہ یہ ہے کہ کیا جسمانی اور کیا روحانی دونو طور پر یہ ہر ایک بلا اور گندی زندگی اور ذلت سے محفوظ رہے۔“ (ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۶۰۰) باب ٥٦ : التَّعَوَّذُ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا دنیا کے فتنہ سے پناہ مانگنا ٦٣٩٠: حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ۶۳۹۰ فروہ بن ابی المغراء نے ہم سے بیان کیا کہ : حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ هُوَ ابْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عبیدہ جو حمید کے بیٹے ہیں ، نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مُصْعَبِ عبد الملک بن عمیر سے ، عبد الملک نے مصعب بن بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ سعد بن ابی وقاص سے ، انہوں نے اپنے باپ رضی اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عنہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔انہوں نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا هَؤُلَاءِ کہا کہ نہیں لی لی یمن میں یہ کلمات سکھایا کرتے تھے۔الْكَلِمَاتِ كَمَا تُعَلَّمُ الْكِتَابَةُ اللَّهُمَّ اسی طرح جس طرح کہ کسی کو لکھنا سکھایا جاتا ہے۔إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ اے اللہ ! میں بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور بزدلی مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ تُرَدَّ سے تیری پناہ لیتا ہوں اور میں تیری پناہ لیتا ہوں اس إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ ہے کہ ہمیں نکی عمر تک پہنچایا جائے اور میں دنیا کے