صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 144 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 144

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۴۴ ۸۰ - كتاب الدعوات اس دعا میں عجیب فلسفہ ہے۔موجودہ دنیا میں یہ طبی انکشاف ہوا ہے کہ جماع کے وقت بلکہ اس سے بھی پہلے ایک سال تک کے خیالات کا اثر بچے پر ہوتا ہے۔مگر دیکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر کیسی دور تک گئی ہے۔آپ نے نکاح کے پاک تعلق سے بھی پہلے ایسی تربیت شروع کی کہ دعاؤں میں انسان نشو و نما پائے۔اب جس شخص نے دعاؤں اور استخاروں کے بعد نکاح کیا اس کے خیالات اور ارادوں کی کیفیت معلوم ہو سکتی ہے۔پھر جب جماع کے وقت وہ شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا کرے گا تو تم سوچو کہ بچے میں ان کا کیسا پاک اثر پڑے گا۔(خطبات نور ، خطبہ نکاح فرموده ۲۵ دسمبر ۱۹۱۱، صفحه ۵۲۰) باب ٥٥ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ربَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً (البقرة: ٢٠٢) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعا کرنا: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر ٦٣٨٩: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۶۳۸۹: مدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الوارث عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ ( بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد العزیز أَنَسٍ قَالَ كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ النَّبِيِّ بن صہیب) سے، عبد العزیز نے حضرت انس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّنَا آتِنَا فِی سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی ا یکم کی اکثر الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا دعا یہ ہوا کرتی تھی کہ اے اللہ ! ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔عَذَابَ النَّارِ (البقرة: ٢٠٢)۔طرفه: ٤٥٢٢ - شريح۔قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً : بي صلى الله عليه فَ وسلم کا یہ دعا کرنا اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے جو یہ دُعا تعلیم فرمائی ہے کہ ربَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً (البقرۃ: ۲۰۲) اس میں بھی دُنیا کو مقدم کیا ہے لیکن کس دنیا کو ؟ حسنة الدنيا کو جو آخرت میں حسنات کا موجب ہو جائے۔اس دُعا کی تعلیم سے صاف سمجھ میں آجاتا