صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 143 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 143

صحیح البخاری جلد ۱۵ ٨٠ - كتاب الدعوات رَزَقْتَنَا فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي پرے رکھنا جو تو ہمیں عطا فرمائے۔ تو اگر دونوں کے ہوتو عطافرمائے۔ تو ذَلِكَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا۔ تعلق سے کوئی بچہ مقدر ہوا تو شیطان اُس کو کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ أطرافه: ۱٤۱ ، ۳۲۷۱، ۳۲۸۳، ٥١٦٥، ٧٣٩٦- تشريح : مَا يَقُولُ إِذَا أَنَّ أَهْلَهُ: جب اپنی بیوی کے پاس آئے تو کیا دعا کرے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شادی محبت کے اجتماع کا نام ہے اور چونکہ محبت جب پورے جوش پر ہو تمام دوسرے تعلقات دب جاتے ہیں اس لئے شریعت نے حکم دیا کہ جب میاں بیوی ملیں تو دعا کریں: اللَّهُمَّ جَيْبُنَا الشَّيْطَانَ وَجَيْبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا ۔ یعنی اے اللہ ! ہمیں بھی شیطان سے بچا اور اس میل کے نتیجہ میں اگر کوئی اولاد ہونے والی ہے تو اسے بھی بچا۔ میاں بیوی کی محبت پاک ہی سہی مگر ایسا نہ ہو کہ ادنی خیالات اعلیٰ پر غالب آجائیں اور اس طرح محبت کے جذبات کے غلبہ کے باعث جس نقصان کا احتمال ہو سکتا تھا اس کا بھی انسداد کر دیا۔“ رسول کریم صلی الم نے صحیح تمدن کی بنیاد رکھی، انوار العلوم جلد ۱۲ صفحہ ۵۴۰) حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مباشرت کے وقت بھی دعا سکھائی۔ ایسے وقت میں کہ انسان جوش میں بے خود ہوتا ہے اس وقت میں بھی دعا کی طرف متوجہ کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال کی دلیل ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ سے کتنا عظیم تعلق ہے۔ یہ بات ہر شخص نہیں سمجھ سکتا۔ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طہارت قلب اور با خدا زندگی کا پتہ لگتا ہے۔ ایسے وقت میں کہ انسان کی شہوانی قوتیں ہیجان میں ہوں اسے خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کرنا معمولی امر نہیں ہو سکتا۔ مگر آپ نے حکم دیا کہ اس وقت انسان دعا کرے: بِاسْمِ اللهِ اللَّهُمَّ جَيْبُنَا الشَّيْطَانَ وَجَيْبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا (بخاری، کتاب الدعوات، باب ما يقول اذا اتى اهله) اللہ کے نام سے یا اللہ ! ہم کو شیطان سے دور رکھ اور اس وجود کو بھی شیطان سے بچائیو جو تو نے ہم کو عطا کیا۔ یعنی اس تعلق سے جو اولاد پید اہو اس کو بھی شیطان سے محفوظ رکھیو۔