صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 140 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 140

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۴۰ ۸۰ - كتاب الدعوات مُقرِنِينَ (الزخرف: ۱۴) بھی سفر کی دعا ہے۔اور اس موقعہ پر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا بھی ہے جس کو میں مرکب دعا کہا کرتا ہوں یعنی بسم الله تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ وَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِي الْعَظِيمِ (سنن الترمذي، كتاب الدعوات، باب ما يقول إذا خرج من بيته) یہ بھی سفر کی ایک دعا ہے۔“ ( خطبات ناصر ، خطبہ نکاح فرموده ۲۳ / اگست ۱۹۶۹، جلد ۱۰ صفحه ۳۹۷) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سفر میں دعائیں بہت قبول ہوتی ہیں۔(سنن الترمذی، کتاب الدعوات، باب ما يقول إذا ركب الناقة) اس لئے میں آج آپ لوگوں کو جو ہزارہا یہاں موجود ہیں تحریک کرتا ہوں کہ خوب دعائیں کریں۔بہت لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ سفر میں دعائیں کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔اُن کی ایسی ہی مثال ہے کہ یوں تو وہ اپنے پاس دوائی کی بوتل رکھتے ہیں لیکن جب بیمار ہوں اُس وقت اُسے پرے پھینک دیتے ہیں۔تو سفر میں کئی لوگ نمازیں پڑھنے اور دعائیں کرنے میں شستی کرتے ہیں حالانکہ یہی وقت خاص طور پر قبولیت کا ہوتا ہے۔دیکھو اللہ تعالیٰ نے ہم پر کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت حکم ہوا ہے کہ سفر میں چار کی بجائے دو رکعت نماز پڑھا کرو۔(بخاری، کتاب الصلوۃ، ابواب تقصیر الصلوة) یعنی خدا نے بتایا ہے کہ لو ایسی حالت میں ہم اپنا آدھا حق عبادت معاف کر دیتے ہیں۔اس وقت میں بھی تم دعائیں مانگ لو، مگر کئی لوگ سفر میں اس طرف توجہ نہیں کرتے۔میں اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ جب تک یہاں رہیں اس جگہ بھی اور رستہ میں بھی ضرور دعائیں مانگیں۔ہمارے دشمن اس قدر طاقتور اور قوی ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کے وعدے ہمارے ساتھ نہ ہوں تو نہ معلوم اُن کا خیال کر کے ہماری حالت کیا ہو۔اس لئے خدا تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے اور اس کے فضل کو جذب کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ لوگ خاص طور پر دعاؤں میں مصروف رہیں۔خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو اس کی توفیق دے۔آمین خطبات محمود، جلد ۵ صفحه ۶۲۳،۶۲۲)