صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 139 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 139

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۳۹ ۸۰ - كتاب الدعوات بچا کے رکھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہو تو انسان ہر شر سے محفوظ رہتا ہے۔جتنا مرضی کسی کو زعم ہو کہ ہماری نئی گاڑی ہے، بڑی اعلی گاڑی ہے یا بڑی مضبوط گاڑی ہے اور اس پر ہم انحصار کر سکتے ہیں، بڑا اعتماد کر سکتے ہیں۔کبھی سواری پر اعتماد یا انحصار نہیں کرنا چاہیئے۔ایک پرزہ بھی ڈھیلا ہو جائے، بعض دفعہ فیکٹری سے نکل کر آتی ہے تو پرزہ ڈھیلا ہوا ہوتا ہے یا چلانے والے کو ہلکا سا نیند کا جھونکا ہی آجائے یا دوسری سواری جو سڑک پر ہے اس کی کوئی غلطی ہو جائے تو کوئی بھی حادثہ پیش آسکتا ہے۔اس لئے مومن کا تو کوئی قدم بھی اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہیں اُٹھ سکتا۔کوئی لمحہ بھی اس کے فضل کے بغیر نہیں گزر سکتا۔پھر اگر گھر کے کچھ لوگ آئے ہیں یا اکیلا ہی آیا ہے تو اس سفر میں بھی یہ دعا مانگتے رہنا چاہیئے کہ اے خدا پیچھے بھی خیر رکھنا یا تمام گھر والے بھی اگر سفر میں ہوں تو مال و اسباب، سامان وغیرہ گھر میں ہوتا ہے تو اس لئے پیچھے کی خیر کی دعامانگتے رہنا چاہیئے۔یہاں تو ان ملکوں میں گھروں میں لکڑیوں کا استعمال بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔کئی واقعات ایسے ہوئے ہیں کہ گھر والے کہیں گئے ہوئے ہیں اور بجلی کا شارٹ سرکٹ ہوا اور واپس آئے تو گھر راکھ کا ڈھیر بنا ہوا تھا۔اس لئے ہمیشہ سفر میں بھی دعاؤں میں رہنا چاہیئے۔مومن کا تو ایک لمحہ بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے بغیر نہیں گزر سکتا۔پھر سفر میں بھی ایسے مناظر دیکھنے کو مل جاتے ہیں جو انسان کی طبیعت پر برا اثر ڈالتے ہیں۔کوئی ایکسیڈنٹ ہی دیکھ لیا اس سے طبیعت پر ایک بوجھ پڑ جاتا ہے۔تو آنحضرت على ا م ہمیشہ خود بھی دعا کرتے تھے اور ہمیں بھی یہی حکم ہوا کہ جب بھی سفر پر ہو ، دعائیں مانگتے رہو اور سفر سے واپس آؤ تو اللہ کا شکر ادا کرو، تو بہ کرتے ہوئے گھر میں داخل ہو، اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دو تا کہ ہمیشہ اس کا فضل شامل حال رہے۔“ (خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۲۵ جون ۲۰۰۲، جلد ۲ صفحه ۲۳۱ تا ۴۳۳) حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سفر کی مختلف دعائیں ہیں۔ان میں ایک تو بِسمِ اللهِ مَجْرِيهَا وَمُرْسَهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِیم (هود: ۴۲) کی دعا ہے۔پھر سُبُحْنَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ