صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 138
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۳۸ ٨٠ - كتاب الدعوات المرسل ٦٣٨٥ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۳۸۵ : اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ مالک نے نافع سے ، نافع عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَفَلَ کی کہ رسول اللہ صلی علیم کا معمول تھا کہ جب آپ مِنْ غَزْوِ أَوْ حَجَّ أَوْ عُمْرَةٍ يُكَبِّرُ عَلَى کسی غزوہ یا حج یا عمرہ سے لوٹتے تو زمین کی ہر بلندی كُلِّ شَرَفٍ مِنَ الْأَرْضِ ثَلَاثَ پر چڑھتے وقت تین بار اللہ اکبر کہتے۔ پھر فرماتے: تَكْبِيرَاتٍ ثُمَّ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا الله ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی ساری وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ ،بادشاہی ہے، اسی کی ساری حمد ہے اور وہ ہر ایک الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ ہم واپس آ رہے ہیں، آبِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ اپنے رب کی طرف رجوع کر رہے ہیں، اپنے رب صَدَقَ اللهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ کی عبادت کرنے والے ہیں، حمد کرنے والے ہیں۔ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ۔ اللہ نے اپنے وعدہ کو سچا کیا اور اپنے بندے کی مدد أطرافه: ۱۷۹۷، ۲۹۹۵، ٣٠٨٤، ٤١١٦۔ کی اور اکیلے ہی ان تمام جتھوں کو بھگا دیا۔ تشريح : الدُّعَاءُ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَوْ رَجَعَ : جب سفر کا ارادہ کرے یا لوٹے تو دعا کرنا۔ حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اُس زمانے میں اگر اونٹ اور گھوڑے کی سواری تھی اس کو سدھایا جاتا تھا تو سوار بھی کوئی سواری سیکھتا تھا۔ جس کو سواری آتی تھی وہی ان سواریوں پر بیٹھ سکتا تھا ورنہ اناڑی سوار کو تو یہ سواریاں فوراً نیچے پھینک دیں۔ تو آج کل بھی جو سواریاں ہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنی عقل دی ہے کہ وہ ایسی سواریاں بنائے اور پھر ان کے استعمال کی عقل بھی اللہ تعالیٰ نے دی اور یہ سہولت والی سواریاں پیدا فرمائیں تو فرمایا: اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سواری پر بیٹھو اور پھر سفر میں بھی لوگوں کی باتیں اور آپس میں چغلیاں کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے رہو ، اس سے بھلائی مانگو اور اس سے ڈرتے رہو اور سفر کے خیریت سے کٹ جانے کے لئے خدا تعالیٰ سے مدد مانگتے رہو۔ یہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ سفر میں بھی ہماری حفاظت فرمائے۔ ہر قسم کے حادثے سے ہم کو