صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 137
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۳۷ ۸۰ - كتاب الدعوات الْجَنَّةِ أَوْ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت مگر اللہ ہی کی مدد هِيَ كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ سے) کیونکہ وہ جنت کے خزانوں میں سے ایک وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔خزانہ ہے یا فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی بات کا پتہ نہ دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے؟ وہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہ ہے۔أطرافه (۲۹۹۲، ٤۲۰۵ ٦٤٠٩ ، ٦٦١٠، ٧٣٨٦- باب ٥١: الدُّعَاءُ إِذَا هَبَطَ وَادِيًا جب کسی وادی میں اترے تو اس وقت دعا کرنا فِيهِ حَدِيثُ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اس کے متعلق حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔تشریح: الدُّعَاءُ إِذَا هَبَطَ وَادِيَّا: جب کسی وادی میں اترے تو اس وقت دعا کرنا۔زیر باب حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی جس روایت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یہ کتاب الجہاد والسیر، باب ۱۳۲ میں مفصل گزر چکی ہے۔آپ بیان کرتے ہیں کہ ہم جب بلندی پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب نیچے اترتے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔(روایت نمبر ۲۹۹۳) علامہ ابن حجر لکھتے ہیں کہ اللہ اکبر کہنے کو بلندی پر چڑھنے سے مناسبت ہے، کیونکہ بلندی اور رفعت حاصل ہونے پر جو بڑائی کا احساس ہوتا ہے وہ نفوس کو محبوب و پسندیدہ ہے۔لہذا جس کسی کو بھی ایسا معاملہ در پیش ہو اُسے یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالی کی کبریائی کا ذکر کرے اور یہ کہ وہی ہے جو ہر چیز سے بڑا ہے ، اس لیے وہ اس بلندی پانے) پر شکر ادا کرنے کی خاطر اس کی بڑائی بیان کرے۔تاکہ وہ اُسے اپنے فضل سے مزید بڑھائے۔اور سبحان اللہ کہنے کو نیچی جگہ اترنے سے مناسبت ہے۔چونکہ پستی والی جگہ تنگی کا مقام ہے ، لہذا اس (حالت) میں سبحان اللہ کہنے کی تعلیم دی گئی ہے، اس لیے کہ سبحان اللہ کہنا ازالہ کلفت کے اسباب میں سے ہے۔جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ میں ذکر ہے کہ جب انہوں نے اندھیروں میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کی تو انہیں غم سے نجات دی گئی۔(فتح الباری جزء ۱ ۱ صفحہ ۲۲۵) باب ٥٢ : الدُّعَاءُ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَوْ رَجَعَ جب سفر کا ارادہ کرے یا کوٹے تو دعا کرنا فِيهِ يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَنَسٍ۔اس کے متعلق یحی بن ابی اسحاق نے حضرت انس سے روایت کی۔