صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 136 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 136

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۰ - كتاب الدعوات دعا کی درخواست کا پیغام بھی پہنچایا۔اس موقع پر آپ نے وضو کر کے ان کے لیے دعا کی کہ اے اللہ ! عبید ابو عامر کی مغفرت فرما اور قیامت کے دن ان کو لوگوں میں سے اپنی بہت سی مخلوق پر فوقیت دے۔باب ٥٠: الدُّعَاءُ إِذَا عَلَا عَقَبَةً جب گھائی پر چڑھے تو دعا کرنا قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ : خَيْرُ عُقبا ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: (قرآن مجید میں (الكهف: ۴۵) عُقْبَةً وَ عُقْبًا وَعَاقِبَةً آیا ہے ( خَيْرُ عُقبا تو عقبا سے مراد انجام ہے اور عُقْبَةً، عُقبا اور عَاقِبَةُ ایک ہی ہے اور وَاحِدٌ وَهُوَ آخِرُهُ } اس سے مراد آخرت یعنی انجام ہے۔٦٣٨٤ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۶۳۸۴ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب سے، أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ الله ایوب نے ابو عثمان (نہدی) سے، ابو عثمان نے عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَكُنَّا إِذَا عَلَوْنَا انہوں نے کہا: ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم كَبَّرْنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کے ساتھ تھے۔جب ہم بلندی پر چڑھتے تو اللہ اکبر وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى کہتے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اپنے آپ کو سنبھال کر ٹھہر کر۔کیونکہ تم کسی بہرے کو أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا نہیں پکار رہے اور نہ ہی کسی غیر حاضر کو۔بلکہ تم غَائِبًا وَلَكِنْ تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا ثُمَّ اُس ذات کو پکار رہے ہو جو بہت ہی سنتا اور بہت أَتَى عَلَيَّ وَأَنَا أَقُولُ فِي نَفْسِي لَا ہی دیکھتا ہے۔پھر آپ میرے پاس آئے اور میں حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ فَقَالَ يَا اپنے دل میں کہہ رہا تھا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا بِاللهِ۔آپ نے فرمایا: عبد اللہ بن قیس ! تم کہولا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہ۔(یعنی نہ بدی سے بچنے کی یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزءا ا حاشیہ صفحہ ۲۲۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔