صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 135 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 135

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۳۵ ۸۰ - كتاب الدعوات اُٹھاتے ہیں۔اصل میں یہ استخارہ ان بد رسومات کی عوض میں رائج کیا گیا تھا جو مشرک لوگ کسی کام کی ابتداء سے پہلے کیا کرتے تھے لیکن اب مسلمان اسے بھول گئے۔حالانکہ استخارہ سے ایک عقل سلیم عطا ہوتی ہے، جس کے مطابق کام کرنے سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔“( ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۲۳۰) بَاب ٤٩ : الدُّعَاءُ عِنْدَ الْوُضُوءِ وضو کرتے وقت دعا کرنا ٦٣٨٣ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ :۶۳۸۳: محمد بن علاء نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بُرید بن عبد اللہ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِی سے، برید نے ابو بردہ سے، ابو بردہ نے حضرت مُوسَى قَالَ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى الله ابو موسیٰ سے روایت کی۔انہوں نے کہا نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ بِهِ ثُمَّ رَفَعَ علیہ وسلم نے پانی منگایا اور وضو کیا، پھر اپنے دونوں يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي ہاتھوں کو اُٹھا کر یوں دعا کی: اے اللہ ! عبید ابو عامر عَامِرٍ - وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے درگزر فرما۔اور میں نے فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی۔اور آپ نے کہا: اے اللہ ! قیامت کے دن اس کو لوگوں میں سے كَثِيرٍ مِّنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ۔أطرافه: ٢٨٨٤، ٤٣٢٣ - اپنی بہت سی مخلوق پر فوقیت دے۔یح: الدُّعَاءُ عِنْدَ الْوُضُوءِ: وضو کرتے وقت دعا کرنا۔علامہ عینی نے بیان کیا ہے کہ بعض نسخوں میں اس باب کا عنوان "الْوُضُوءُ عِندَ الدُّعَاءِ " ہے۔یعنی دعا کے وقت وضو کرنا۔(عمدۃ القاری جزء ۲۳ صفحہ (۱۲) حدیث الباب سے یہ مفہوم بھی مترشح ہوتا ہے اور اس کی تائید کتاب المغازی روایت نمبر ۴۳۲۳ سے بھی ہوتی ہے۔اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ غزوہ حنین کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عامر کو ایک فوج کا سر دار مقرر کر کے اوطاس کی طرف بھیجا تھا۔شدید زخمی ہونے پر انہوں نے اپنے بھتیجے حضرت ابو موسیٰ اشعری کو اپنا قائم مقام مقرر کیا اور شہادت سے قبل انہیں کہا: اے میرے بھتیجے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام کہنا اور آپ سے عرض کرنا کہ میرے لیے مغفرت کی دعا کریں۔مہم سے کامیاب واپسی پر حضرت ابو موسیٰ اشعری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے جنگ کے تمام حالات کا ذکر کیا اور حضرت ابو عامر کا سلام اور