صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 134 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 134

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۳۴ ۸۰- كتاب الدعوات وضو کر کے دو رکعت نماز کے لئے کھڑے ہو جائیں۔پہلی رکعت میں سورة قُلْ يَايُّهَا الكَفِرُونَ پڑھیں۔یعنی الحمد تمام پڑھنے کے بعد ملالیں، جیسا کہ سورۃ فاتحہ کے بعد دوسری سورۃ ملایا کرتے ہیں اور دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھ کر سورۃ اخلاص یعنی قُلْ هُوَ الله احد ملالیں اور پھر التحیات میں آخر میں اپنے سفر کے لئے دعا کریں کہ یا الہی! میں تجھ سے کہ تو صاحب فضل اور خیر اور قدرت ہے، اس سفر کے لئے سوال کرتا ہوں کیونکہ تو عواقب الامور کو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو ہر ایک امر پر قادر ہے اور میں قادر نہیں۔سو، یا الہی ! اگر تیرے علم میں یہ بات ہے کہ یہ سفر سراسر میرے لئے مبارک ہے، میری دنیا کیلئے ، میرے دین کیلئے اور میرے انجام امر کیلئے اور اس میں کوئی شہر نہیں تو یہ سفر میرے لئے میسر کر دے اور پھر اس میں برکت ڈال دے اور ہر ایک شر سے بچا اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ سفر میرا میری دنیا یا میرے دین کے لئے مضر ہے اور اس میں کوئی مکروہ دہ امر ہے تو اس سے میرے دل کو پھیر دے اور اس سے مجھے کو پھیر دے آمین۔یہ دعا ہے جو کی جاتی ہے۔تین دن کرنے میں حکمت یہ ہے کہ تا بار بار کرنے سے اخلاص میسر آوے۔آج کل اکثر لوگ استخارہ سے لاپر واہ ہیں حالانکہ وہ ایسا ہی سکھایا گیا ہے جیسا کہ نماز سکھائی گئی ہے۔سو یہ اس عاجز کا طریق ہے کہ اگر چہ دس کوس کا سفر ہو تب بھی استخارہ کیا جاوے۔سفروں میں ہزاروں بلاؤں کا احتمال ہوتا ہے اور خد اتعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ استخارہ کے بعد متولی اور متکفل ہو جاتا ہے اور اس کے فرشتے اس کے نگہبان رہتے ہیں جب تک اپنی منزل تک نہ پہنچے۔اگر چہ یہ دعا تمام عربی میں موجود ہے۔لیکن اگر یاد نہ ہو تو اپنی زبان میں کافی ہے اور سفر کا نام لے لینا چاہیئے کہ فلاں جگہ کے لئے سفر ہے۔“ (مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۳۴۲،۳۴۱) ایک اور موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ” آج کل اکثر مسلمانوں نے استخارہ کی سنت کو ترک کر دیا ہے حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیش آمدہ امر میں استخارہ فرمالیا کرتے تھے۔سلف صالحین کا بھی یہی طریقہ تھا۔چونکہ دہریت کی ہوا پھیلی ہوئی ہے اس لئے لوگ اپنے علم وفضل پر نازاں ہو کر کوئی کام شروع کر لیتے ہیں اور پھر نہاں در نہاں اسباب سے جن کا انہیں علم نہیں ہوتا نقصان