صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 133 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 133

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۳۳ ۸۰ - كتاب الدعوات تشریح : الدُّعَاءُ عِند الاستخارة: استخارہ کے وقت دعا کرنا۔حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ طریق عمل تھا کہ ہر ایک اہم کام کے شروع کرنے سے پہلے ضرور دعا کیا کرتے تھے اور دعابطریق مسنون دعائے استخارہ ہوتی تھی۔استخارہ کے معنی ہیں خدا تعالیٰ سے طلب خیر کرنا۔استخارہ کے نتیجہ میں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ کوئی خواب آجائے جیسا کہ آج کل کے بعض صوفی استخارہ کرتے ہیں۔یعنی خدا تعالیٰ سے خیر طلب کرتے ہیں۔یہ طریق مسنون نہیں۔اصل مقصد تو یہ ہونا چاہیئے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے خیر حاصل ہو اور دعائے استخارہ سے اللہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ جو کام ہمارے لئے بہتری اور بھلائی کا ہو وہ آسان ہو جاتا ہے، بغیر دقتوں کے حاصل ہو جاتا ہے اور قلب میں اس کے متعلق انشراح اور انبساط پید ا ہو جاتا ہے۔عمونا استخارہ رات کے وقت بعد نماز عشاء کیا جاتا ہے۔دو رکعت نماز نفل پڑھ کر التحیات میں درود شریف اور دیگر مسنون دعاؤں کے بعد دعائے استخارہ پڑھی جاتی ہے اور اس کے بعد فور آسو رہنا چاہیے اور باتوں میں مشغول ہونا مناسب نہیں ہوتا لیکن حسب ضرورت دوسرے وقت بھی استخارہ کیا جاسکتا ہے۔“ (سیرت حضرت مسیح موعود، حصہ پنجم صفحه ۴۹۰) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دو دعا سے پہلے کوئی فیصلہ مت کرو بلکہ دعا اور استخارہ کرتے وقت اپنی تمام آراء اور فیصلوں سے علیحدہ ہو جاؤ۔کیونکہ اگر تم فیصلہ کرنے کے بعد دعا اور استخارہ کرو گے تو وہ بابرکت نہیں ہو گا۔استخارہ اور دعا وہی بابرکت ہوگی جس میں تمہاری رائے اور فیصلہ کا دخل نہ ہو۔تم خدا پر معاملہ کو چھوڑ دو اور دل اور دماغ کو خالی کر لو اور اس کے حضور میں عرض کرو کہ خدایا جو تیری طرف سے آئے گا وہی ہمارے لئے بابرکت ہوگا اور ہماری بہتری کا موجب ہو گا۔“ (خطبات محمود، خطبہ نکاح فرموده ۳۱ دسمبر ۱۹۲۰، جلد ۳ صفحه ۸۷،۸۶) حضرت سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراسی کے نام ایک مکتوب میں حضرت مسیح موعود نے تحریر فرمایا کہ بعد تین دن کے استخارہ مسنونہ جو سفر کے لئے ضروری ہے، اس طرف کا قصد فرما دیں۔بغیر استخارہ کے کوئی سفر جائز نہیں۔ہمارا اس میں طریق یہ ہے کہ اچھی طرح