صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 132
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۰ - كتاب الدعوات صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام امور میں استخارہ اسی الِاسْتِحَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا كَالسُّورَةِ طرح سکھایا کرتے تھے جیسا کہ قرآن کی سورت۔مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ جب کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الفَرِيضَةِ ثُمَّ رکعتیں پڑھے ، پھر کہے: اے اللہ میں تیرے علم کے يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ ویلے سے تجھ سے بہتری چاہتا ہوں اور تیری قدرت وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ کے وسیلے سے طاقت مانگتا ہوں اور میں تجھ سے تیرا فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا وہ فضل مانگتا ہوں جو بہت ہی بڑا ہے۔تو ہی سب قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا اور تو ہی أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو ہی پوشیدہ باتوں کو الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ خوب جانتا ہے ، اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي - میرے لئے میرے دین میں اور میری زندگی میں وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ فِي اور میرے اس کام کے انجام کے لحاظ سے بہتر ہے عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاقْدُرْهُ لِي يا فرمایا: میرے کام کے اس نتیجے کے لحاظ سے جو وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ جلد یا دیر سے ظاہر ہونے والا ہو بہتر ہے تو میرے لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي لئے اس کو مقدر کر اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام - أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ میرے لئے میرے دین میں اور میری زندگی میں - فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ اور میرے کام کے انجام کے اعتبار سے نقصان دہ وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ ہے یا فرمایا: میرے اس کام کے اس نتیجے سے جو رَضِنِي بِهِ وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ۔أطرافه: ١١٦٢، ٧٣٩٠- جلدی ہونے والا ہو یا دیر سے ہونے والا ہو تو مجھے سے اس کو ٹال دے اور مجھے بھی اس سے ہٹا دے اور میرے لئے بھلائی کو جہاں بھی ہو مقدر فرما اور پھر مجھے بھی اس پر راضی کر اور یہ دعا کرتے ہوئے اپنی اس حاجت کا نام لے۔