صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 130
صحیح البخاری جلد ۱۵ مَالِكِ ۔۔ مِثْلَهُ۔ ۱۳۰ ٨٠ - كتاب الدعوات حضرت انس بن مالک سے ایسا ہی سنا۔ أطرافه: ١٩٨٢، ٦٣٣٤، ٦٣٤٤ ، ٦٣٨٠-٦٣٨١- تشريح : الدُّعَاءُ بِكَثْرَةِ الْمَالِ وَالْوَلَدِ مَعَ الْبَرَكَةِ: برکت کے ساتھ بہت مال اور اولاد کی دعا کرنا۔ امام بخاری ابواب کی ترتیب سے بعض سوالات حل کرتے ہیں۔ باب ۴۵ اور باب ۴۶ سے یہ سوال اُٹھتا ہے کہ اگر دولت فتنہ ہے اور غربت بھی فتنہ ہے تو انسان کس راہ کو اختیار کرے۔ اس کا جواب باب ۴۷ سے دیا ہے کہ نہ غنی اور تو نگری بری بلا ہے اور نہ غربت و افلاس کوئی منحوس شے ہے۔ اصل بات انسانی حالتوں اور رویوں سے تعلق رکھتی ہے۔ اگر دولت مندی انسان کو شکر اور مخلوق کی خدم خدمت اور خدمات دینیہ میں بڑھانے کا باعث بنے تو یہ ایک انعام الہی ہے۔ اسی طرح غربت اگر انسان کو انکساری اور عاجزی میں بڑھاتی اور صبر کی ادائیں سکھاتی ہے تو یہ بھی انسان کے لئے فضل الہی اور اُسے خدا اور مخلوق کا محبوب بنائے گی اس لئے امام بخاری نے باب نمبر ۴۷ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے اس مرکزی نکتہ کو بیان کیا ہے کہ دولت ہو یا غربت اس میں برکت ہے تو وہ فتنہ نہیں بلکہ انعام الہی ہے۔ برکت میں بڑھنے، زیادہ ہونے اور دائمی ہونے کے بھی معنے پائے جاتے ہیں۔ نہا یہ ابن اخیر میں لکھا ہے : أَثْبِتُ لَهُ وادِمُ مَا أَعطيته ۔۔۔ وتُطلق البَرَكَة أَيْضًا عَلَى الزيادة ( النهاية في غريب الحديث والاثر - برك) کہ وہ انعام اس کے لئے ثابت اور دائمی ہو اور برکت کا اطلاق کثرت یا زیادت پر بھی ہوتا ہے۔ پس مال اور اولاد اسی صورت میں باعث برکت ہے کہ وہ ایسے انعام کے طور ملے کہ اس انعام کے پانے کے بعد انسان مغضوب اور خال نہ بنے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہی چیز جو بنی نوع انسان کے سکون کا باعث ہے اس کے متعلق دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انهَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ( الأنفال: ۲۹) تمہارے اموال اور تمہاری اولادیں بھی کبھی کبھی تمہاری آزمائش کا موجب ہو جاتی ہیں۔ تو وہی چیز جو ایک وقت میں اچھی ہوتی ہے بعض دوسر ں دوسرے حالات کے ماتحت تکلیف کا موجب ہو جاتی ہے۔ پس مومن کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اُس نے جو نعمتیں عطا کی ہیں وہ اس کی ٹھوکر کا موجب نہ ہو جائیں۔“ (خطبات محمود، خطبه جمعه فرموده ۹ اگست ۱۹۵۵، جلد ۳۶ صفحه ۱۱۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: خوب یا د رکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی بعض باتوں کو نہ ماننا اس کی سب باتوں کو ہی چھوڑنا ہوتا ہے۔ اگر ایک حصہ شیطان کا ہے اور ایک اللہ کا تو اللہ تعالیٰ حصہ داری کو پسند نہیں