صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 128
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۲۸ ۸۰ - كتاب الدعوات حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی وضاحت سے بتایا ہے كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا (مشکوۃ کتاب الآداب) کہ بھوک جو ہے وہ کبھی کفر اور ضلالت پر منتج ہوتی ہے۔بھوک کے نتیجہ میں انسان بسا اوقات شیطان کے دام فریب میں آجاتا ہے اور اپنے رب کو چھوڑ دیتا اور بھول جاتا ہے اور خد اتعالیٰ کو رزاق سمجھنے کی بجائے وہ شیطان کے پاس اس شرط پر اپنی روح کو بیچ دیتا ہے کہ وہ اس کو دنیوی اموال اور اسباب اور متاع مہیا کرے گا اور اس کی روح شیطان اس لئے خرید لیتا ہے کہ خدا کو یہ کہہ سکے کہ میں نے کہا تھا: اے رب! کہ میں تیرے بندوں کو بہکاؤں گا۔دیکھ ! یہ تیرا بندہ تھا مگر تیرا بندہ نہیں بنا۔اور دیکھ میں اس کی روح کو جہنم میں پھینک رہا ہوں۔اس کو میں نے اس قدر گمراہ، طافی اور منکر اور سرکش بنا دیا ہے کہ تیرے غضب کا مورد ہو گیا ہے۔تیرے قہر کی تجلی نے جلد اسے کوئلہ کر دیا ہے۔تو بھوک بسا اوقات کمزور دل میں کفر پیدا کرتی ہے۔۔۔شیطان کا غلام ہمارا بھائی اس طرح بھی بن جاتا ہے کہ اس کا پیٹ نہیں بھر رہا ہوتا اور بھوکا رہنے کی وجہ سے اور اپنے بچوں کو بھوکا دیکھتے ہوئے بہک جاتا ہے اور اپنے خدا کو بھول جاتا ہے اور یہ نہیں سوچتا کہ ایسے ابتلا تو بطور امتحان کے ہوتے ہیں۔ان میں کامیاب ہونے کی اور پاس ہونے کی کوشش کرنی چاہیے نہ یہ کہ آدمی فیل ہو اور ناکام ہو اور خدا کے غضب اور غصہ کو سہیڑ لے۔۔۔بھوک کے نتیجہ میں ہمیں ایک اور قسم کی غلامی بھی نظر آرہی ہے اور اس حدیث کے یہ بھی ایک معنی ہیں کہ جب کوئی قوم بھوک سے مرنے لگتی ہے تو وہ غیر قوموں کی غلامی اختیار کرتی ہے۔چنانچہ وہ اقوام جو ان قوموں کو غلہ مہیا کرتی ہیں اور غذا مہیا کرتی ہیں جہاں کمی ہو ، وہ اپنے مالکانہ اثر ورسوخ اور سیاسی دباؤ کو استعمال بھی کرتی ہیں اور غلہ لینے والی قومیں اپنے آپ کو پوری آزاد محسوس نہیں کرتیں۔اللہ تعالیٰ ہماری قوم کو اس سے محفوظ رکھے۔“ ( خطبات ناصر ، خطبہ عید الفطر ۱۳ جنوری ۱۹۶۷، جلد ۱۰ صفحه ۱۱ تا ۱۳)