صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 127
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۰ - كتاب الدعوات زمانے کے متعلق یہ ایک بنیادی اصول بیان ہو ا تھا کہ جو قومیں اپنے غریبوں کا فکر نہیں کرتیں ان کے غریبوں کی غربت بالآخر دہریت پر منتج ہو جایا کرتی ہے۔پھر وہ خدا کے خلاف ہو جاتے ہیں، باغی ہو جاتے ہیں اور اشتراکیت کے عروج نے جو اس صدی کے آغاز میں شروع ہو البعینہ وہ منظر پیش کیا ہے لیکن گزشتہ صدی میں اس کی بنیادیں رکھی جارہی تھیں اور وہ بھی بعینہ اسی اصول پر کہ غربت کفر میں تبدیل ہو رہی تھی۔پہلے غربت کے اثرات کے نتیجہ میں دہریت کا ایک فلسفہ وجود میں آیا ہے۔پھر اس کے نتیجہ میں مارکس ازم ، لینن ازم پیدا ہوئے ہیں۔دوسری طرف جب ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فقد أوتي خَيْرًا كَثِيرًا (البقرة: ۲۷۰) اللہ تعالیٰ جس کو چاہے حکمت عطا فرماتا ہے اور جو شخص بھی حکمت دیا جائے ، جسے خدا تعالیٰ کی طرف سے حکمت عطا کی جائے، اسے گویا خیر کثیر عطا ہو گئی، یعنی اسے زرکثیر عطا کیا گیا، کثرت سے مال دے دیا گیا۔تو حکمت کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں زرکثیر کے طور پر پیش کیا۔گویا حکمت کی کمی غربت ہے۔اگر حکمت کثرت مال پر دلالت کرتی ہے۔یہ بالکل ایک دوسرے کا برعکس ہیں اور بعینم یہ مضمون دونوں جگہ صادق آتا ہے اگر حکمت مال ہے تو حکمت کی کمی غربت ہے اور حکمت کی کمی بھی لازم اکفر میں تبدیل ہو سکتی ہے اور ہوتی رہی ہے۔چنانچہ اس مضمون کو سمجھنے کے بعد اس محاورے کی سمجھ آجاتی ہے کہ آنحضرت صلی ایام سے پہلے کے زمانے کو جاہلیت کا زمانہ کہتے ہیں کفر کا زمانہ نہیں کہتے۔جاہلیت کے اندر ایک مخفی کفر ہے۔جاہلیت کفر میں اس وقت تبدیل ہوتی ہے جب دو ٹوک حکم نازل ہو جاتا ہے کہ یہ کرنا ہے یا وہ کرنا ہے، اس وقت جاہلیت کے اندر دیا ہوا کفر سر اُٹھاتا ہے اور انکار کر دیتا ہے۔پس یہ بہت ہی عظیم اصطلاح ہے جو قرآن کریم نے استعمال فرمائی کہ آنحضرت علی علیکم کے زمانے سے پہلے کو جاہلیت کا زمانہ قرار دیا یعنی روحانی لحاظ سے انتہائی غربت کا زمانہ فقر اور فاقوں کا زمانہ اور وہی عقلی فقر تھا جو کفر میں تبدیل ہو گیا۔“ خطبات طاہر ، خطبہ جمعہ فرموده ۴ اکتوبر ۱۹۹۱ء، جلد ۱۰ صفحه ۷۹۸ تا ۸۰۰)