صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 126 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 126

صحیح البخاری جلد ۱۵ ح : التَّعْوذُ مِن فِتْنَةِ الْفَقْرِ: محتاجی کے فتنے سے پناہ مانگنا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ۸۰ - كتاب الدعوات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعہ پر فرمایا کہ كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا کہ دیکھو! میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں۔ہر گز بعید نہیں ہے کہ غربت کفر میں تبدیل ہو جائے۔اب غربت سے کیا مراد ہے؟ دولت سے کیا مراد ہے ؟ اگر مادی لحاظ سے دیکھا جائے تو دنیا کی غربت بھی کفر میں تبدیل ہو جایا کرتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اشتراکیت کے پیدا ہونے کے متعلق اس میں ایک بہت گہری پیشگوئی تھی۔كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا کا اطلاق حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر تو نہیں ہو تا تھا کیونکہ وہاں تو یہ عالم تھا کہ جتنا غریب تھا اتنا ہی زیادہ شیدائی، اتنا ہی زیادہ عاشق اور اصحاب الصفہ نے تو وہ روایات قائم کر دی ہیں جو مذہب کے آسمان پر ہمیشہ چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح جڑی رہیں گی اور کوئی نہیں جو ان کے نور کو کم کر سکے۔غریب سے غریب، ادنی سے ادنی آدمی جس کو کچھ بھی استطاعت نہیں تھی خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے ایسے ولولے رکھتا تھا کہ ایک موقعہ پر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریک فرمائی اور بعض ایسے ہی اصحاب الصفہ تھے جن کے پاس کچھ نہیں تھا، انہوں نے کلہاڑے پکڑے یا عاریہ لئے ، جنگل میں نکلے ، لکڑیاں اکٹھی کیں اور واپس آکر بیچیں، جو کچھ ہاتھ آیا وہ خدمت دین میں پیش کر دیا۔تو یہ بات ہمیشہ میرے پیش نظر رہی کہ لازماً اس میں کوئی پیشگوئی ہے ورنہ حضرت محمد رسول اللہ صلی نیلم کے زمانے کے غریبوں پر تو یہ اطلاق نہیں پار ہی اس زمانے کا جو فقر تھا وہ نور ایمان میں بدلا ہو اتھا اور تحاذ کا لفظ بتارہا ہے کہ اس کے اندر تنبیہ ہے جو مستقبل سے تعلق رکھتی ہے اور بعض احتمالات سے تعلق رکھتی ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غرباء میں کوئی کفر کی باتیں دیکھی تھیں۔مراد یہ تھی کہ وہ غرباء جو محمد رسول اللہ صلی ایام کے تربیت یافتہ نہ ہوں ان کے لئے خطرہ ہے جو نور نبوت کے نیچے نہیں پلتے ان کے لئے خطرہ ہے کہ ان کا فقر کفر میں تبدیل نہ ہو جائے۔اور دوسرے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آئندہ کے (شعب الإيمان للبيهقي، باب :٤٣: الحث على ترك الغل والحسد، جزء ۹ صفحه ۱۲، روایت نمبر ۲۱۸۸)