صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 123 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 123

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۲۳ ٨٠ - كتاب الدعوات ہو۔ افراط و تفریط کا شکار یہ تمام فلسفے چاہے وہ مارکس ازم ہو یا لینن ازم اپنے پیچھے ایسے فتنے چھوڑ گئے کہ آج تک انسان ان کے کانٹے چن رہا ہے مگر اسلام کا اقتصادی نظام عدل و انصاف کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے احسان اور ایتاء ذی القربی کے اس بے لوث اور کریمانہ سلوک پر منتج ہوتا ہے جس سے ہر انسانی طبقہ فیض یاب ہوتا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلامی اقتصاد نام ہے فردی آزادی اور حکومتی تداخل کے ایک مناسب اختلاط کا۔ یعنی اسلام دنیا کے سامنے جو اقتصادی نظام پیش کرتا ہے اس میں ایک حد تک حکومت کی دخل اندازی بھی رکھی گئی ہے اور ایک حد تک افراد کو بھی آزادی دی گئی ہے ان دونوں کے مناسب اختلاط کا نام اسلامی اقتصاد ہے۔ فردی آزادی اس لئے رکھی گئی ہے تا کہ افراد آخرت کا سرمایہ اپنے لئے جمع کر لیں اور اُن کے اندر تسابق اور مقابلہ کی روح ترقی کرے اور حکومت کا تداخل اس لئے رکھا گیا ہے کہ امراء کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ اپنے غریب بھائیوں کو اقتصادی طور پر تباہ کر دیں۔ گویا جہاں تک بنی نوع انسان کو تباہی سے محفوظ رکھنے کا سوال ہے حکومت کی دخل اندازی ضروری سمجھی گئی ہے اور جہاں تک تسابق اور اُخروی زندگی کے لئے زاد جمع کرنے کا سوال ہے حریت شخصی کو قائم رکھا گیا ہے اور فردی آزادی کو کچلنے کی بجائے اس کی پوری پوری حفاظت کی گئی ہے۔ پس اسلامی اقتصادیات میں فردی آزادی کی بھی پوری حفاظت کی گئی ہے تاکہ انسان طوعی خدمات کے ذریعہ سے آئندہ کی زندگی کے لئے سامان بہم پہنچا سکے اور تسابق کی روح ترقی پاکر ذہنی ترقی کے میدان کو ہمیشہ کیلئے وسیع کرتی چلی جائے اور حکومت کا دخل بھی قائم رکھا گیا ہے تاکہ فرد کی کمزوری کی وجہ سے اقتصادیات کی بنیاد ظلم ، بے انصافی پر قائم نہ ہو جائے اور بنی نوع انسان کے کسی حصہ کے راستہ میں روک نہ بن جائے۔“ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں: اسلام کا اقتصادی نظام، انوار العلوم جلد ۱۸ صفحه ۳۵) خوب یا د رکھو کہ امیری کیا ہے ؟ امیری ایک زہر کھانا ہے۔ اس کے اثر سے وہی بچ سکتا ہے جو شفقت علی خلق اللہ کے تریاق کو استعمال کرے اور تکبر نہ کرے لیکن اگر وہ اس کی شیخی اور گھمنڈ میں آتا ہے تو نتیجہ ہلاکت ہے۔ ایک پیاسا ہو اور ساتھ کنواں بھی ہو