صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 122
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۲۲ ۸۰ - كتاب الدعوات سب سے بڑا فتنہ ہے جس سے بچنے کے لئے قرآن کریم نے سورۃ فاتحہ میں مغضوب اور ضالین کے گروہ میں شامل ہونے سے بچنے کی دعا سکھائی ہے اور قرآن کریم کے آخر میں معوذات کی صورت میں اس دجالی فتنہ سے بچنے کی دعا سکھائی گئی ہے اور حدیث میں اس فتنے کے استیصال اور تباہی کی خوشخبری دی ہے۔چنانچہ احادیث میں آیا ہے کہ دجال مسیح موعود کی دعا سے اس طرح پگھل جائے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔' باب ٤٥ : الِاسْتِعَاذَةُ مِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى دولتمندی کے فتنے سے پناہ مانگنا ٦٣٧٦ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :٧٣٧٦ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعِ عَنْ سلام بن ابی مطیع نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ خَالَتِهِ أَنَّ النَّبِيُّ ( بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ باپ نے اپنی خالہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ عليه وسلم یوں پناہ مانگا کرتے تھے: اے اللہ ! میں آگ کے فتنے سے اور آگ کے عذاب سے تیری وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ پناہ لیتا ہوں اور قبر کے فتنے سے تیری پناہ لیتا ہوں اور قبر کے عذاب سے بھی تیری پناہ لیتا ہوں اور الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى دولتمندی کے فتنے سے بھی تیری پناہ لیتا ہوں اور وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ وَأَعُوذُ محتاجی کے فتنے سے بھی تیری پناہ لیتا ہوں اور مسیح بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ۔دجال کے فتنے سے بھی تیری پناہ لیتا ہوں۔أطرافه ۸۳۲، ۸۳۳، ۲۳۹۷، ۶۳۶۸، ۶۳۷۰، ۶۳۷۷، ۷۱۲۹۔مريح۔الاسْتِعَاذَةُ مِن فِتْنَةِ الْغِنَى: دولتمندی کے فتنے سے بنا مانگنا۔باب ۴۵ الاستعانة من فتنة الفتى اور باب ۴۶ التَّعَوذُ مِن فِتْنَةِ الْفَقْرِ اسلام کے معاشی نظام کی اساس ہیں۔اسلام جس اقتصادی اور معاشی نظام کو پیش کرتا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔دنیا میں کتنے ہی اقتصادی نظام آئے اور نہ جانے کس قدر آئندہ اقتصادی نظام آئیں گے مگر کوئی نظام بھی انسان کی اقتصادی اور معاشی ضروریات کا متکفل نہ بن سکا،نہ Communism اور نہ ہی Capitalism دنیا کو وہ نظام دے سکے جو ہر پہلو سے انسان کی حقیقی ضرورتوں کا ضامن ا (سنن ابن ماجه، كتاب الفتن، باب فتنة الدجال، روایت نمبر ۴۰۷۷)