صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 124 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 124

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۲۴ ۸۰- كتاب الدعوات لیکن کمزور ہو اور غریب ہو اور پاس ایک متمول انسان ہو تو وہ محض اس خیال سے کہ اس کو پانی پلانے سے میری عزت جاتی رہے گی اس نیکی سے محروم رہ جائے گا۔اس نخوت کا نتیجہ کیا ہوا؟ یہی کہ نیکی سے محروم رہا اور خد اتعالیٰ کے غضب کے نیچے آیا۔پھر اس سے کیا فائدہ پہنچا۔یہ زہر ہو ایا کیا؟ وہ نادان ہے سمجھتا نہیں کہ اس نے زہر کھائی ہے۔لیکن تھوڑے دنوں کے بعد معلوم ہو جائے گا کہ اس نے اپنا اثر کر لیا ہے اور وہ ہلاک کر دے گی۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ بہت سی سعادت غرباء کے ہاتھ میں ہے۔اس لیے انہیں امیروں کی امیری اور معمول پر رشک نہیں کرنا چاہیے اس لیے کہ انہیں وہ دولت ملی ہے جو ان کے پاس نہیں۔ایک غریب آدمی بے جا ظلم، تکبر ، خود پسندی، دوسروں کو ایذا پہنچانے، اتلاف حقوق و غیرہ بہت سی برائیوں سے مفت میں بچ جائے گا کیونکہ وہ جھوٹی شیخی اور خود پسندی جو ان باتوں پر اسے مجبور کرتی ہے اس میں نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب کوئی مامور اور مرسل آتا ہے تو سب سے پہلے اس کی جماعت میں غرباء داخل ہوتے ہیں۔اس لیے کہ ان میں تکبر نہیں ہوتا۔دولت مندوں کو یہی خیال اور فکر رہتا ہے کہ اگر ہم اس کے خادم ہو گئے تو لوگ کہیں گے کہ اتنا بڑا آدمی ہو کر فلاں شخص کا مرید ہو گیا ہے اور اگر ہو بھی جاوے تب بھی وہ بہت سی سعادتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔الا ماشاء اللہ۔کیونکہ غریب تو اپنے مرشد اور آقا کی کسی خدمت سے عار نہیں کرے گا مگر یہ عار کرے گا۔ہاں اگر خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے اور دولت مند آدمی اپنے مال دولت پر ناز نہ کرے اور اس کو بندگانِ خدا کی خدمت میں صرف کرنے اور ان کی ہمدردی میں لگانے کے لیے موقع پائے اور اپنا فرض سمجھے تو پھر وہ ایک خیر کثیر کا وارث ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۴۳۹) نیز فرمایا: ” میں سچ سچ کہتا ہوں کہ تم اس بات کو خوب یا درکھو کہ جیسا کہ قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے اور ایسا ہی دوسرے نبیوں نے بھی کہا ہے یہ سچ ہے کہ دولت مند کا بہشت میں داخل ہونا ایسا ہی ہے جیسے اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کا مال اس کے لیے بہت سی روکوں کا موجب ہو جاتا ہے۔اس لیے اگر تم چاہتے ہو کہ