صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 121 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 121

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۲۱ ۸۰ - كتاب الدعوات فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اللَّهُمَّ اغْسِل سے اور دولتمندی کے فتنے کے شر سے اور فقر کے خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ فتنے کے شر سے اور مسیح دجال کے فتنے کے شر قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ ہے۔اے اللہ ! میری خطاؤں کو برف اور اولوں الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي کے پانی سے دھو ڈال اور میرے دل کو تمام خطاؤں وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ سے بالکل صاف کر دے اُسی طرح کہ جس طرح الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ۔سفید کپڑا میل سے پاک وصاف کر دیا جاتا ہے اور میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنی ہی دوری کر جتنی کہ تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے۔أطرافه ۸۳۲، ۸۳۳، ۲۳۹۷، ٦٣٦٨، ٦٣٧٦، ۶۳۷۷، ۷۱۲۹- تشريح : الاسْتِعَاذَةُ مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَمِنْ وَفِتْنَةِ النَّارِ بھی مرے اور دنیا کے فتنے سے اور آگ کے فتنے سے پناہ مانگنا۔ہو۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ایک دعا ارذَلِ الْعُمُرِ سے متعلق ہے۔اَرذَلِ کے معنی ہیں روی، ناکارہ۔یعنی ایسی عمر جس میں نہ صرف انسان کا وجود بے فائدہ ہو جاتا ہے بلکہ اس کا جینا اس کے اور اس کے عزیز و اقرباء کے لئے بھی ایک بہت بڑے دکھ کا موجب ہوتا ہے۔“ ( ترجمه و شرح صحیح البخاری، کتاب التفسیر، سورۃ النحل، بابا، جلد ۱۰ صفحه ۵۰۱) دنیا و آخرت کا کوئی فتنہ کوئی فساد اور کوئی مصیبت ایسی نہیں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچنے کی دعانہ کی ہو اس سے آپ نے اپنی امت کو یہ پیغام دیا کہ دعا کا حربہ ہاتھ میں لو اسی سے تم ہر آفت اور ہر شر سے بچ سکتے۔آج امت کا ایک طبقہ تو دعا کی تاثیرات کا منکر ہو چکا ہے اور جو لفظاً منکر نہیں عمل وہ بھی دعا کو ایک کمزور اور غیر یقینی حربہ سمجھتے ہیں۔امام الزمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کی تاثیرات کو اپنے تجربہ سے سب سے بڑا اور مضبوط حربہ قرار دیا ہے۔فرمایا: دعاؤں کی تاثیر آب و آتش سے بڑھ کر ہے اور بتایا کہ انبیاء کی کامیابیاں دعا کے چشمہ سے ہی فیضیاب ہو ئیں اور آج بھی جو ہو گا وہ دعا سے ہی ہو گا۔غیر ممکن کو یہ ممکن میں بدل دیتی ہے اے میرے فلسفیو زور دعا دیکھو تو عنوان باب میں فتنہ الدنیا سے پناہ مانگی گئی ہے علماء نے لکھا ہے اس سے مراد دجال کا فتنہ ہے جو آخری زمانہ کا