صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 119 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 119

صحیح البخاری جلد ۱۵ ١١٩ ۸۰ - كتاب الدعوات (۲) وَلَعَلَّكَ متخلف یہ بیماری کے بعد صحت اور کامیاب زندگی کی دعا ہے جو پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہے اور یہ دعا اور پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی اور حضرت سعد اس کے بعد چالیس سال زندہ رہے اور ان کے ہاتھ سے بے شمار فتوحات ہوئیں۔ان میں فتح عراق نمایاں ہے۔ان فتوحات میں دشمنوں نے ان سے نقصان اٹھایا اور بہت سے لوگ ان کے ذریعہ مشرف باسلام ہوئے۔ان نو مسلموں نے دولت ایمان ان سے حاصل کی اور قدیمی مسلمانوں کو ان کی فتوحات سے دیگر لا تعداد فوائد پہنچے۔حضرت وو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ” مریض کے علاج میں برکت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا اذن نہ ہو تو دوائی میں شفا نہیں ہوتی ، دوائی میں شفا بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی ہے۔تو آپ کا یہ طریق تھا کہ جب بھی مریض کے پاس جاتے تو اس کے لئے سب سے پہلے دعا کرتے۔“ (خطبات مسرور، خطبہ جمعہ فرموده ۱۵، اپریل ۲۰۰۵، جلد ۳ صفحه ۲۳۴) مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جب لوگوں نے مقابلہ کیا تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے دکھایا کہ ملک میں سخت طاعون پھوٹے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا اور لوگ ہزاروں کی تعداد میں اس کا لقمہ بن گئے مگر اس طاعون کے وقت بھی باوجودیکہ طاعون کا پھوٹنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی تائید میں تھا آپ نے مجسم رحم بن کر خدا کے حضور اس عذاب کو ٹلانے کے لئے نہایت گڑگڑا کر دعائیں کیں اور اس قدر گریہ وزاری کی کہ مولوی عبد الکریم صاحب جو مسجد مبارک کے اوپر کے حصہ میں رہتے تھے فرماتے تھے کہ ایک دن مجھے کسی کے رونے کی آواز آئی اور وہ آواز اتنی دردناک تھی جیسے کوئی عورت دردزہ کی تکلیف میں مبتلا ہو۔میں نے کان لگا کر سنا تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رو رو کر خدا کے حضور میں دعا فرما رہے ہیں کہ اے اللہ! اگر تیرے سارے بندے مر گئے تو مجھ پر ایمان کون لائے گا۔یہ چیز بھی آپ کی صداقت کیلئے نہایت زبر دست دلیل ہے یہ آپ ہی کی تائید کیلئے اللہ تعالیٰ نے طاعون بھیجی اور آپ کے دل میں ہی رحم آگیا اور دعائیں کرنا شروع کر دیں۔“ ( خداتعالی دنیا کی ہدایت کے لیے ہمیشہ نبی مبعوث فرماتا ہے، انوار العلوم جلد ۱۸ صفحہ ۵۱۴)