صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 118
صحیح البخاری جلد ۱۵ HA ۸۰ - كتاب الدعوات کر رہے ہیں اس میں مدینہ میں ملیر یا وغیرہ کی وبا بھی بہت پڑتی تھی اور لوگ بخار سے سخت تکلیف اُٹھاتے تھے۔چنانچہ جب شروع شروع میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب مدینہ میں ہجرت کر کے آئے تو بوجہ آب و ہوا کی تبدیلی کے انہوں نے بہت تکلیف اُٹھائی اور بہت سے مسلمان بخار میں مبتلا ہو گئے اور ان کی صحتوں کو بہت نقصان پہنچا۔چنانچہ احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دعا مروی ہے جو آپ نے مسلمانوں کی اس تکلیف کو دیکھ کر خدا کے حضور کی اور جس کے نتیجہ میں خدا نے مسلمانوں کو اس تکلیف سے نجات دی اور مدینہ کی فضا ایک بڑی حد تک وبائی جراثیم سے پاک ہو گئی۔“ (سیرت خاتم النبین ملی ، صفحہ ۲۹۲) حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دینہ میں ملیریا کی وبا بہت عام تھی کیونکہ وہ پانی والا علاقہ تھا اور کثرت سے بڑے مضر مچھر وہاں پیدا ہوتے تھے اور مکہ چونکہ خشک علاقہ تھا وہاں کوئی مچھر نہیں تھا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اس وقت یہ دعا کی کہ اے اللہ اس کی آب و ہوا کو صحت مند بنا دے اور ہمارے لیے اس کے مد اور صاع کے پیمانوں میں برکت رکھ دے۔اور اس کے بخار کو یہاں سے جحفہ کی طرف منتقل فرمادے۔“ خطبه جمعه فرموده ۲ جون ۲۰۰۰ء، الفضل انٹرنیشنل، ۱۴ جولائی ۲۰۰۰ صفحه ۶) آب و ہوا کی خرابی کی وجہ سے جو بیماریاں آتی ہیں انہیں وبائی امراض کہا جاتا ہے جبکہ عام بیماریوں کے لئے وجمع کا لفظ مستعمل ہے۔وباء کا لفظ طاعون کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔اس وقت مدینہ میں جو وباء تھی وہ طاعون نہیں تھی بلکہ وہائی بخار تھا۔ممکن ہے یہ وباء جحفہ سے ہی پھیلی ہو۔وَانْقُلْ حُماهَا إِلَى الْجُحْفَة : جمعہ اہل مصر اور شام کا قدیم میقات ہے۔اس وقت جحفہ ایسا شہر تھا جس میں سب سے زیادہ بخار تھا اور لوگ اس کے چشمہ سے پانی لینے سے اجتناب کرتے تھے۔اس چشمہ کو عدن الحمقی کہا جاتا تھا۔لے وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يَنْتَفعَ بِكَ أَقْوَامُ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ: اور شاید تمہیں پیچھے چھوڑا جائے یہاں تک کہ تمہارے ذریعہ کچھ لوگ فائدہ اُٹھائیں اور کچھ اوروں کو تمہارے ذریعہ نقصان پہنچایا جائے۔حضرت سعد بن ابی وقاص کے لئے آپ نے دو دعائیں کیں جو دونوں بڑی شان سے پوری ہو ئیں۔(۱) إِنَّكَ لَن مختلف کہ اس بیماری میں تم فوت ہو کر ارض ہجرت میں نہیں رہو گے اور تمہاری وفات مکہ میں نہیں ہو گی بلکہ اس بیماری سے شفا پاؤ گے۔ل التوضيح لشرح الجامع الصحيح، کتاب الدعوات، باب الدعاء يرفع الْوَبَاءِ وَالْوَجَع، جزء ۲۹ صفحه ۳۱۴)