صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 117
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۱۷ ٨٠ - كتاب الدعوات يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ بھی بہت ہے۔ تم اگر اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ جاؤ تو یہ بہتر ہے اس سے کہ اُن کو محتاج چھوڑ جاؤ حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ قُلْتُ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ اور أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي قَالَ إِنَّكَ لَنْ تم جو بھی ایسا خرچ کرو گے کہ جس کے ذریعہ اللہ کی تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ رضا مندی چاہتے ہو گے تو ضرور ہی تمہیں اس کا اللَّهِ إِلَّا ازْدَدْتَ دَرَجَةً وَرِفْعَةٌ وَلَعَلَّكَ بدلہ دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔ میں نے کہا: کیا میں تُخَلَّفُ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ اپنے ساتھیوں کے پیچھے ہی چھوڑ دیا جاؤں گا ؟ آپ بِكَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي نے فرمایا: تمہیں ہرگز پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا۔ جو هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ عمل بھی تم کرو گے جس کے ذریعہ سے تم اللہ کی لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ قَالَ رضا مندی چاہ رہے ہو گے تو ضرور ہی درجے اور سَعْدٌ رَبَّى لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بلندی میں بڑھتے چلے جاؤ گے اور شاید تمہیں پیچھے وَسَلَّمَ مِنْ أَنْ تُوُفِّيَ بِمَكَّةَ۔ چھوڑا جائے یہاں تک کہ تمہارے ذریعہ کچھ لوگ فائدہ اُٹھائیں اور کچھ اوروں کو تمہارے ذریعہ نقصان پہنچایا جائے۔ اے اللہ ! میرے ساتھیوں کے لئے ان کی ہجرت کو آخر تک پہنچا اور انہیں ان کی ایڑیوں کے بل واپس نہ کر لیکن بے چارہ سعد بن خولہ ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص) نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے افسوس کیا اس لئے کہ وہ مکہ میں فوت ہو گئے۔ أطرافه: ٥٦، ۱۲۹٥ ، ٢٧٤۲، ٢٧٤٤، ۳۹٣٦، ٤٤٠٩، ٥٣٥٤ ، ٥٦٥٩، ٥٦٦٨، ٦٧٣٣- تشريح الدُّعَاءُ بِرَفْعِ الْوَبَاءِ وَالْوَجع: و با او بیماری کے دور ہونے کی دعا کرنا۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں: مدینہ کے باشندے قدیم زمانہ سے عموماً زراعت پیشہ رہے ہیں۔ مدینہ میں گرمی شدت کی پڑتی ہے اور سرما میں سردی بھی بہت تیز ہوتی ہے اور جس زمانہ کا ہم ذکر