صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 116
صحیح البخاری جلد ۱۵ ١١۶ ٨٠ - كتاب الدعوات باب ٤٣ : الدُّعَاءُ بِرَفْعِ الْوَبَاءِ وَالْوَجَعِ و ہا اور بیماری کے دور ہونے کی دعا کرنا ٦٣٧٢ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۶۳۷۲ : محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ہشام بن عروہ سے ، ہشام نے اپنے باپ سے ، ان قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت اللهُمَّ حَبِبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا کی۔ آپ بیان کرتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَانْقُلْ فرمایا: اے اللہ! ہمیں مدینہ بھی ایسا ہی پیارا کر دے حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا جیسا تو نے مکہ کو ہمارا پیارا بنایا ہے یا اس سے بڑھ کر فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا۔ أطرافه: ۱۸۸۹، ٣٩٢٦، ٥٦٥٤، ٥٦٧٧۔ اور اس کا بخار جحفہ میں لے جا۔ اے اللہ ! ہمارے ند میں اور ہمارے صاع میں ہمیں برکت دے۔ ٦٣٧٣ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۶۳۷۳: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب نے شِهَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ أَبَاهُ ہمیں خبر دی۔ ابن شہاب نے عامر بن سعد (بن قَالَ عَادَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ الى وقاص) سے روایت کی کہ ان کے والد کہتے تھے : حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ شَكْوَى أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ میری عیادت کو آئے۔ میری اس بیماری میں جس کی وجہ سے میں مرنے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ میں فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَ بِي مَا تَرَى نے کہا: یا رسول اللہ ! اس بیماری سے جس حد تک مِنَ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي میری حالت پہنچ چکی ہے آپ دیکھ ہی رہے ہیں اور إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةً أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ میں مالدار ہوں اور میرا کوئی وارث نہیں سوائے مَالِي؟ قَالَ لَا قُلْتُ فَبِشَطْرِهِ قَالَ میری میری اکلوتی بیٹی کے۔ کیا میں اپنے مال کا دو تہائی الثُلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ صدقہ میں دے دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ میں أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِّنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً نے کہا: پھر اس کا آدھا؟ آپ نے فرمایا: ایک تہائی