صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 115 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 115

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۱۵ ۸۰- كتاب الدعوات مضمحل ساہو کر اوقات بسر کرتا ہے۔قویٰ میں وہ تیزی اور حرکت نہیں ہوتی جو جوانی میں ہوتی ہے اور بچپن کے زمانہ سے بھی گیا گذرا ہو جاتا ہے۔بچپن میں اگر چہ شوخی، حرکت اور نشو و نما ہوتا ہے، لیکن بڑھاپے میں یہ باتیں نہیں۔نشو و نما کی بجائے اب قویٰ میں تحلیل ہوتی ہے اور کمزوری کی وجہ سے شستی اور کاہلی پیدا ہونے لگتی ہے۔بچہ اگر چہ نماز اور اس کے مراتب اور ثمرات اور فوائد سے ناواقف ہو گا یا ہوتا ہے، لیکن اپنے کسی عزیز کو دیکھ کر ریس اور امنگ ہی پیدا ہو جاتی ہے، مگر اس پیرانہ سالی کے زمانہ میں تو اس کے بھی قابل نہیں رہتا۔جو اس باطنی میں جس طرح اس وقت فرق آجاتا ہے حواس ظاہری میں بھی معمر ہو کر بہت کچھ فتور پیدا ہو جاتا ہے۔بعض اندھے ہو جاتے ہیں، بہرے ہو جاتے ہیں، چلنے پھرنے سے عاری ہو جاتے ہیں اور قسم قسم کی مصیبتوں اور دکھوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔“ (ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۱۹۸، ۱۹۹) نیز فرمایا: انسان پر جیسے ایک طرف نقص فی الخلق کا زمانہ آتا ہے جسے بڑھا پا کہتے ہیں۔اُس وقت آنکھیں اپنا کام چھوڑ دیتی ہیں اور کان شنوا نہیں ہو سکتے۔غرض کہ ہر ایک عضو بدن اپنے کام سے عاری اور معطل کے قریب قریب ہو جاتا ہے۔اسی طرح سے یاد رکھو کہ پیرانہ سالی دو قسم کی ہوتی ہے۔طبعی اور غیر طبعی۔طبعی تو وہ ہے جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔غیر طبعی وُہ ہے کہ کوئی اپنی امراض لاحقہ کا فکر نہ کرے، تو وہ انسان کو کمزور کر کے قبل از وقت پیرانہ سال بنا دیں۔جیسے نظام جسمانی میں یہ طریق ہے ایسا ہی اندرونی اور روحانی نظام میں ہوتا ہے۔اگر کوئی اپنے اخلاق فاسدہ کو اخلاق فاضلہ اور خصائل حسنہ سے تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرتا تو اس کی اخلاقی حالت بالکل گر جاتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور قرآن کریم کی تعلیم سے یہ امر بداہت ثابت ہو چکا ہے کہ ہر ایک مرض کی دوا ہے، لیکن اگر کسل اور شستی انسان پر غالب آجاوے، تو بجز ہلاکت کے اور کیا چارہ ہے۔اگر ایسی بے نیازی سے زندگی بسر کرے جیسی کہ ایک بوڑھا کرتا ہے، تو کیونکر بچاؤ ہو سکتا ہے۔جب تک انسان مجاہدہ نہ کرے گا، دُعا سے کام نہ لے گا وہ غمرہ جو دل پر پڑ جاتا ہے ، دُور نہیں ہو سکتا۔“ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۸۷،۸۶)