صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 114 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 114

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۱۴ ۸۰ - كتاب الدعوات بَاب ٤٢ : التَّعَوُّذُ مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ نکمی عمر سے پناہ مانگنا اَرَاذِلُنَا (هود: ۲۸) سُقَاطُنَا۔اراذلنا ( جو قرآن مجید میں آیا ہے اس کے معنی ہیں: ہم میں سے رذیل لوگ۔٦٣٧١ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ۶۳۷۱: ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الوارث عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْن (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد العزیز صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ بن مہیب سے، عبد العزیز نے حضرت انس بن اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگا کرتے تھے۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ يَقُولُ اللَّهُمَّ آپ دعا کرتے : اے اللہ ! میں سستی سے تیری پناہ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَأَعُوذُ لیتا ہوں اور بزدلی سے تیری پناہ لیتا ہوں اور بہت بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَرَمِ بڑھاپے سے تیری پناہ لیتا ہوں اور بخل سے تیری پناہ لیتا ہوں۔وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْل۔أطرافه: ۲۸۲۳، ۲۸۹۳، ٤۷۰۷، ٥٤٢٥ ٦٣٦٣، ٦٣٦٧، ٦٣٦٩- شریح : التَّعَوذُ مِن أَرذَلِ الْعُمُرِ: کی عمرے بنا مانگنا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مضبوطی اور ترقی کے بعد پھر وہ زمانہ آتا ہے کہ بوڑھا ہو کر کمزور ہو جاتا ہے حتی کہ ہوش و حواس قائم نہیں رہتے۔ایسے بڑھاپے سے بچنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا سکھلائی ہے کہ اے اللہ ! ایسا بڑھا پانہ آئے جس میں نکتا ہو جاؤں اور عقل ماری جائے۔انسان کو جسمانی کمزوری دو طرح سے لاحق ہوتی ہے۔اوّل طاقتوں کے غلط استعمال سے دوسر ابڑھاپے کی وجہ سے۔“ (خطبات محمود جلد ۲ صفحہ ۱۴۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”جو پیرانہ سالی کا زمانہ ہے وہ تو بجائے خود ایسا نکما اور رڈی ہوتا ہے ، جیسے کسی چیز سے عرق نکال لیا جاوے اور اس کا پھوک باقی رہ جاوے۔اسی طرح پر انسانی عمر کا پھوک بڑھاپا ہے۔انسان اس وقت نہ دنیا کے لائق رہتا ہے اور نہ دین کے۔مخبوط الحواس اور