صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 113 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 113

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۱۳ ۸۰ - كتاب الدعوات حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " بخل سے مراد مالی بخل، خیالات پاکیزہ کے اظہار کا بخل، علم و عمل کا بخل، غرض کسی کو نفع نہ پہنچانا خواہ وہ کسی ہی رنگ میں ہو بخل کہلاتا ہے۔جین - بزدلی جو کہ انسان میں فطرتا کسی نہ کسی قسم کی کمزوری یا نقص ہونے کی وجہ سے پائی جاتی ہے۔آج اس زمانہ میں علاوہ مالی بخل اور جین کے اظہار خیالات کے مادہ اور طاقت کا نہ ہونا، علم جو کہ ایک طاقت اور جرآت کا بڑا بھاری باعث اور موجب ہوتا ہے اس کا نہ ہونا، مؤثر پیرایوں میں اپنے عندیہ کو مدلل اور مبرہن نہ کر سکنا، قوت بیانی کا نہ ہونا، ان سب کا نام ہے بخل۔اور پھر ان کے عدم کی وجہ سے انسانی حالت جو کہ فطرتا اس کمی اور کمزوری کی وجہ سے اپنے اندر ہی اندر ایک قسم کا ضعف محسوس کرتی ہے اور مخالف خیالات کے لوگوں سے مقابلہ کرنے سے پر ہیز کرتی ہے، اس حالت کا نام جین یعنی بزدلی ہے۔“ (خطبات نور صفحہ ۳۲۱) نیز فرمایا: کسی کے پاس کوئی چیز ہو اور وہ اُس کے دینے سے مضائقہ کرے۔یہ تو عام لوگوں کے نزدیک بخل ہے۔قرآنِ کریم کی اصطلاح میں سچی بات اور مفید مشوروں کے دینے سے جو لوگ اپنے آپ کو روکیں وہ بھی بخیل ہیں۔“ حقائق الفرقان جلد ۲ صفحہ ۲۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: میں یقینا سمجھتا ہوں کہ بخل اور ایمان ایک ہی دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔جو شخص سچے دل سے خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے وہ اپنا مال صرف اس مال کو نہیں سمجھتا کہ اس کے صندوق میں بند ہے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کے تمام خزائن کو اپنے خزائن سمجھتا ہے اور امساک اس سے اس طرح دُور ہو جاتا ہے جیسا کہ روشنی سے تاریکی دور ہو جاتی ہے۔،، مجموعه اشتہارات جلد ۳ صفحه ۴۹۸