صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 111 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 111

صحیح البخاری جلد ۱۵ 111 ۸۰- كتاب الدعوات پڑھانے کے لئے موجود ہیں مگر علم کا حاصل نہ کرنا کسل ہے۔یا مثلاً اگر علم ہو پر عمل نہ کیا جاوے۔آنکھ خدا نے دی ہے مگر حق کی بینا نہیں۔نہ اس سے کتاب اللہ کو پڑھے اور نہ نظر عبرت سے عبرت خیز نظاروں کو دیکھے۔کان دیئے ہیں مگر وہ حق کے شنوا نہیں۔زبان خدا نے دی ہے مگر وہ حق کی گویا نہیں۔غرض عجز تو کہتے ہیں اسباب کا مہیا ہی نہ کرنا اور کسل کے معنے ہیں کہ مہیا شدہ اسباب سے کام نہ لیتا اور یہ دونوں قسم کے اخلاق رذیلہ اور کمزوریاں نتیجہ ہوتی ہیں ھم اور حزن کا۔کیونکہ جب انسان هم و حزن میں ڈوب جاتا ہے تو اسے پھر نہ تو آئندہ کسی ترقی اور خوشی کے حصول کے اسباب مہیا کرنے اور شر سے بچنے کی کوشش کرنے کی توفیق اور وقت و فرصت ملتی ہے اور نہ ہی وہ کسی قسم کے خوشی وراحت کے اسباب سے کام لے کر نتیجہ اور پھل کا وارث بن سکتا ہے۔غرض اس دعا کی تہ میں ایک بار یک قسم کی تعلیم ہے جو مسلمانوں کو حد درجہ کا ہوشیار ، چالاک اور شجاع بناتی اور سستی اور کاہلی سے نفرت دلاتی ہے۔“ (خطبات نور صفحہ ۳۱۸ تا ۳۲۰) أَعُوذُ بِكَ مِنَ الجبن: میں تیری پناہ لیتا ہوں بزدلی سے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”خدا کے مرسلین اور مامورین کبھی بزدل نہیں ہوا کرتے بلکہ سچے مومن بھی بزدل نہیں ہوتے۔بزدلی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے۔صحابہ رضی اللہ عنہم پر مصیبتوں نے بار بار حملے کیے مگر انہوں نے کبھی بزدلی نہیں دکھائی۔خدا تعالیٰ اُن کی نسبت فرماتا ہے: مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًاه (الاحزاب: ۲۴) یعنی جس ایمان پر انہوں نے کمر ہمت باندھی تھی اس کو بعض نے تو نبھا دیا اور بعض منتظر ہیں کہ کب موقعہ ملے اور سرخرو ہوں اور انہوں نے کبھی کم ہمتی اور بزدلی نہیں دکھائی۔“(ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۲۸۷،۲۸۶) نیز آپ نے فرمایا: ”خدا کی راہ میں شجاع بنو۔انسان کو چاہیے کبھی بھروسہ نہ کرے کہ ایک رات میں زندہ رہوں گا۔بھروسہ کرنے والا ایک شیطان ہوتا ہے۔انسان بہادر ہے۔یہ بات