صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 110
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۱۰ ٨٠ - كتاب الدعوات اور ہر وقت اور ہر گھڑی چست اور تیار رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ اگر قرآن کریم کے اس ایک ہی حکم پر مسلمان عمل کرتے تو سارے جہان پر بھاری اور سب پر حاوی ہو جاتے۔ مگر افسوس انہوں نے اس طرف توجہ نہ کی اور ذلیل وخوار ہو گئے۔ اب ہم لوگوں کو جنہیں خدا تعالیٰ نے اصل اسلام پر قائم کیا ہے، بہت تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرنے دینا چاہیے کہ ہمارے قدم پہلے سے زیادہ تیزی کے ساتھ نیکی کی طرف نہ اُٹھ رہے ہوں۔ کیونکہ مسلمانوں کو صرف اس امر کا حکم نہیں دیا گیا کہ نیکی کرو، بلکہ یہ حکم دیا گیا ہے کہ نیکی کرنے والوں میں سب سے آگے بڑھ جاؤ۔“ (خطبات محمود، جلد ۵ صفحه ۵۲۲) أَعُوذُ بِكَ مِنَ العَجْزِ وَالكَسَلِ۔ میں تیری پناہ لیتا ہوں عاجزی اور سستی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرماتے ہیں: عجز کہتے ہیں اسباب کا مہیانہ کرنا۔ جو سامان اللہ تعالیٰ نے کسی حصول مطلب اور دفع شر کے واسطے بنائے ہیں ان کا مہیا نہ کرنا اور ہاتھ پاؤں توڑ کر رہ جانے کو عجز کہتے ہیں۔ بقدر طاقت، بقدر امکان، بقدر فہم اور علم کوشش ہی نہ کرنا اور تدبیر ہی نہ کرنا یہی عجز ہے۔ تو کل اسے نہیں کہتے۔ دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ أَعْلَمُ النَّاسِ، أَخْشَى لله اور اتقى الناس تھے ، ان سے بڑھ کر بھی بھلا کوئی انسان ہو سکتا ہے۔ تو ان کو بھی یہ حکم ہوتا ہے کہ شَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ (آل عمران: ۱۶۰) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اور بے لوث زندگی جو ہمارے واسطے قرآن شریف اور اس کے کل احکام کا ایک عملی اور زندہ نمونہ موجود ہے۔ اس میں غور کرنے سے ہرگز ہرگز ایسا کبھی ثابت نہیں ہوگا کہ آپ نے بھی کبھی تو کل کے یہ معنے کئے ہوں جو آج کل بد قسمتی سے سمجھے گئے ہیں۔ تو کل کے غلط معنوں کی وجہ سے ہی تو مسلمانوں میں سستی اور کاہلی گھر کر گئی۔ پس دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالی عجز سے بچاوے اور بقدر فہم و فراست تکیہ اسباب کرنا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔ الگسل کیسل عربی میں کہتے ہیں کہ اسباب موجود ہوں مگر ان سے کام نہ لیا جاوے، سامان مہیا ہیں مگر ان سے فائدہ نہ اُٹھایا جاوے۔ مثلا کتاب موجود ہے، مدرس اور مولوی