صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 109
صحیح البخاری جلد ۱۵ 1+9 بَاب ٤٠ : الِاسْتِعَاذَةُ مِنَ الْجُبْنِ وَالْكَسَلِ كُسَالَى وَ كَسَالَى وَاحِدٌ۔بزدلی اور سستی سے پناہ مانگنا ۸۰- كتاب الدعوات کسائی اور کسائی ایک ہی ہیں۔٦٣٦٩ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ :۶۳۶۹ خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو سليمان بن بلال) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ عمرو بن ابى عمرو نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہا: میں نے حضرت انس سے سنا۔وہ کہتے تھے : نبی يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمَ صلى اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ ! وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنُ میں تیری پناہ لیتا ہوں فکر اور غم سے اور عاجزی اور سستی سے اور بزدلی اور کنجوسی سے اور قرضے وَالْبُخْلِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ۔کے زیادہ ہونے سے اور لوگوں کے غلبہ سے۔أطرافه: ۲۸۲۳، ۲۸۹۳، ٤۷۰۷، ٥٤٢٥ ٦٣٦٣، ٦٣٦٧، ٦٣٧١۔تشریح۔الاسْتِعَاذَةُ مِنَ الْجُبْنِ وَالْكَسَلِ: بزدلی اور ستی سے پناہ مانگنا۔علامہ کرمانی بیان کرتے ہیں کہ رذائل تین اقسام کے ہیں۔(۱) نفسانی (۲) بدنی (۳) خارجی۔پھر پہلی قسم یعنی نفسانی رذائل انسانی قومی کے لحاظ سے تین طرح کے ہیں یعنی عقلی ، غضبی اور شہوی۔وہ بیان کرتے ہیں کہ ھم وحزن کا تعلق عقل سے، جنین یعنی بزدلی کا تعلق غضب سے، بخل کا تعلق شھو یعنی خواہشات سے ہے جبکہ بعجز وکسل بدن سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ یہ اعضاء، اسباب وقویٰ کے دستیاب ہونے یا ان کی عدم دستیابی کی وجہ سے ظاہر ہوتے ہیں۔پھر وہ خارجیہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ضلع اور غلبہ یعنی بوجھ کے نیچے دب جانا اور مغلوب ہو جانا خارجی (عوامل) سے تعلق رکھتا ہے۔چونکہ یہ دعا ان تمام پہلوؤں پر حاوی ہے اس لئے انہوں نے اسے جوامع الکلم میں شمار کیا ہے۔(الکواکب الدراري، شرح باب التعوذ من غلبة الرجال، جزء ۲۲ صفحه ۱۵۹) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا سکھائی ہے کہ خدا یا سُستی اور غفلت اور کسل سے بچا۔قرآن سُست لوگوں کو پسند نہیں کرتا اور شست کبھی خدا کا مقبول نہیں ہو سکتا۔پس اسلام نہ صرف نیکی ہی کی تعلیم دیتا ہے بلکہ دوسروں سے نیکی میں بڑھنے کا حکم دیتا ہے