صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 108
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۰۸ ٨٠ - كتاب الدعوات ثابت شده علاج Ice cold baths ہیں۔ (Centre of Disease Control (CDC کے مطابق ۵ فیصد امریکی depression کا شکار ہیں، اور corona pandemic کے سال میں یہ شرح بڑھ گئی ہے۔ کئی مریضوں کی ادویات میں اس علاج سے کمی واقع ہوئی ہے یا پھر مکمل طور پر ادویات مختم ہو گئیں ہیں۔ noradrenaline مثلاً( hormones جسم میں مختلف ہے Ice cold hydrotherapy )۳( endorphins، اور دیگر neuro transmitters) فوری طور پر بڑھتے ہیں اور دماغ پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں دماغی قوت بڑھتی ہے، یاد داشت تیز ہوتی ہے، اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں بہتری آتی ہے۔ (۳) ایک تحقیق ۲۰۱۵ میں جب hot & ice cold showers کے دو گروپ کا موازنہ کیا گیا تو یہ ثابت ہوا کہ cold showers کے گروپ میں موجود افراد میں زیادہ قوت اور ہمت دیکھنے میں آئی۔ (۴) Ice cold showers کے بعد نیند بھی بہتر ہوتی ہے اور گہری نیند آتی ہے۔ کے Cold hydrotherapy میں Schizophrenia مثلاً Psychotic Disorders ۵) مختلف( مفید نتائج دیکھنے میں آئے، اور اس کا اثر اسی طرح ہے جس طرح مختلف Psychosis میں Shock therapy طریقہ علاج ہے۔ )Electroconvulsive Therapy Ice cold therapy کے ذریعے Art of Tummo study میں ایک Tibetean Monks )۲( اور توجہ (Meditation) سے روحانی مدارج میں ترقی دیکھی ہے اور جسمانی صحت اور عمر میں بھی بہت فائدہ ہوا ہے۔ (۷) درد شقیقہ Migraine جو ایک عام مرض ہے۔ اس میں Ice hyrdotherapy کا فائدہ دیکھا گیا ہے اور متعدد مریضوں میں migraine کی شدت میں کمی واقع ہوئی ہے یا پھر مکمل فائدہ ہوا ہے۔ غرض منفی درجہ حرارت خواہ وہ برف کے پانی اور اولوں یا جدید طریقہ کار سے حاصل کیا جائے ہماری خطاؤں“ یعنی جسمانی و روحانی بیماریوں کے لئے ایک اکسیر ہے۔ اسی لئے اس حدیث میں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ اے اللہ میری خطاؤں کو برف اور اولوں کے پانی سے دھو ڈال۔“ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے : وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ ) ( سورة الشعراء: ۸۱) یعنی ”جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ شفا تو وہ شفا دیتا ہے۔“ یعنی میری خطاؤں“ یعنی بے اعتدالیوں کے نتیجہ میں جو روحانی و جسمانی جسمانی بیماریاں بیماریا مجھے لاحق ہوتی ہیں، تو اپنے محبوب ترین طبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی میں برف کے پانی یا اولوں سے “ ” دھو ڈال۔“ (روزنامه الفضل لندن، ۱۸، اگست ۲۰۲۱ ، صفحه ۵،۴)