صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 105 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 105

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۰۵ ۸۰ - كتاب الدعوات چکا، ہوچکا آپ کی اپنی بے وقوفی تھی، کسی دوست نے دھوکا دے دیا۔وہ ایسے حالات ہیں جو ماضی کا حصہ بن گئے آپ اُن کو تبدیل نہیں کر سکتے۔سوائے استغفار کے کوئی رستہ نہیں ہے۔اس لیے استغفار کے ذریعے جب آپ خدا سے رحم کے اور بخشش کے طالب ہوں گے اور خدا تعالیٰ اس دنیا میں آپ کو ان مالی مشکلات سے نجات بخشے گا تو قطعی طور پر آپ اس بات پر زندہ ثبوت بن جائیں گے کہ اسلامی تعلیم سچی ہے اور عیسائیت نے خدا پر بدظنی کی تھی۔“ ( خطبات طاہر، خطبہ جمعہ فرمودہ ۶ مئی ۱۹۸۸، جلد ۷ صفحہ ۳۱۸) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: "جو شخص دعویٰ سے کہتا ہے کہ میں گناہ سے بچتا ہوں وہ جھوٹا ہے۔جہاں شیرینی ہوتی ہے وہاں چیونٹیاں ضرور آتی ہیں۔اسی طرح نفس کے تقاضے تو ساتھ لگے ہی ہیں ان سے نجات کیا ہو سکتی ہے ؟ خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت کا ہاتھ نہ ہو تو انسان گناہ سے نہیں بچ سکتا نہ کوئی نبی نہ ولی اور نہ ان کے لئے یہ فخر کا مقام ہے کہ ہم سے گناہ سرزد نہیں ہوتا بلکہ وہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کا فضل مانگتے تھے اور نبیوں کے استغفار کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل کا ہاتھ اُن پر رہے ورنہ اگر انسان اپنے نفس پر چھوڑا جاوے تو وہ ہر گز محفوظ نہیں ہو سکتا۔اللَّهُمَّ بَاعِدُ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطانیائی اور دوسری دعائیں بھی استغفار کے اسی مطلب کو بتلاتی ہیں۔عبودیت کا ستر یہی ہے کہ انسان خدا کی پناہ کے نیچے اپنے آپ کو لے آوے۔جو خدا کی پناہ نہیں چاہتا وہ مغرور اور متکبر ہے۔“ معصوم اور نیز فرمایا: ( ملفوظات جلد ۳ صفحه (۳۴۶) تدابیر انسان کو ظاہری گناہ سے بچاتی ہیں لیکن ایک کشمکش اندر قلب میں باقی رہ جاتی ہے اور دل ان مکروہات کی طرف ڈانواں ڈول ہوتارہتا ہے اُن سے نجات پانے کے لیے دعا کام آتی ہے کہ خدا تعالیٰ قلب پر ایک سکینت نازل فرماتا ہے۔“ (لمفوظات جلد ۳ صفحه ۵۶۸) اغْسِلُ عَلى خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ: امام ابن حجر لکھتے ہیں: یہ نہیں فرمایا کہ گرم پانی سے دھو دے جبکہ گرم پانی میل کچیل کے دور کرنے میں زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔لکھتے ہیں: اس میں اشارہ یہ ہے کہ برف کا پانی اور اولے کا پانی پاک ہیں۔(فتح الباری جزء ۱۱ صفحہ ۲۱۲)