صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 104
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۰۴ ۸۰ - كتاب الدعوات وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا کر دے اُسی طرح جس طرح کہ تو نے سفید کپڑے بَاعَدْتٌ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ۔کو میل سے پاک وصاف کیا ہے اور میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا ہی فاصلہ کر دے جتنا کہ تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے۔أطرافه ۸۳۲، ۸۳۳ ۲۳۹۷، ٦۳۷۵، ٦٣٧٦، ٦٣٧٧، ٧١٢٩۔التَّعْوذُ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ: ایسی بات سے پناہ مانگا جوگناہ کا موجب ہو اور اس بات سے جو چٹی کا موجب ہو۔لفظ الماقم مشتق ہے افم سے یعنی گناہ۔امام راغب بیان کرتے ہیں کہ اتم سے مراد ایسے کام ہیں جو ثواب سے پیچھے رکھنے والے یعنی اس سے روکنے کا موجب ہوں۔نیز یہ لفظ عذاب اور سزا کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔(المفردات في غريب القرآن، إثم) المَغْرَم لفظ غُرُم سے ہے، اس سے مراد ایسا مالی نقصان ہے جو بغیر کوئی مُجرم یا خیانت کیے انسان کو اُٹھانا پڑ جائے۔(المفردات فی غریب القرآن، غرم) نیز اس لفظ میں چمٹ جانے اور ساتھ لگے رہنے کے معنی بھی ہیں۔(مقاییس اللغة، غرم) یعنی ایسی چیز جس سے چھٹکارا پانا ممکن ہی نہ ہو۔سنن نسائی میں روایت ہے کہ کسی نے آپ سے مغرم سے پناہ مانگنے کی دعا کی وجہ دریافت کی۔آپ نے فرمایا: مقروض شخص بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔(سنن نسائی، کتاب السهو، روایت نمبر ۱۳۰۹) اس سے ماتم اور مغرم کا آپس کا بھی تعلق نظر آتا ہے کہ چھٹی یا قرض انسان کے لئے مزید گناہوں کا موجب اور باعث بنتا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: آپ روپیہ لے بیٹھے اُس کو غلط مصرف میں استعمال کر بیٹھے۔ایسی تجارت میں ڈال دیا جہاں سے اُس کے واپس آنے کی کوئی امید باقی نہ رہی۔چٹی پڑ گئی کسی لحاظ سے بھی آپ قرضوں میں مبتلا ہو گئے یہ سابقہ کے گناہ کی طرح ہے۔اگر سابقہ کی غلطیاں بخشی جاہی نہیں سکتیں تو پھر ایسے شخص کے لیے کوئی امید نہیں۔مگر وہ خداجو گناہ بخشتا ہے اس میں طاقت ہے اور وہ آپ کی ذاتی مادی کمزوریوں میں اور روزمرہ کے لین دین کی کمزوریوں میں بھی اُسی طرح بخشش کی طاقت رکھتا ہے۔ایک بہت ہی عظیم الشان مضمون ہے جس سے خدا کی بخشش کا مضمون ثابت ہوتا ہے۔عیسائی جو یہ کہتے ہیں کہ خدافی ذاتہ بخشش کی گویا طاقت نہیں رکھتا اُس کا بطلان ہے اس مثال کے ذریعے۔آپ قرضوں میں مبتلا ہیں جو غلطیاں کہیں پیچھے سر زد ہو گئیں جن تک اب آپ کی رسائی نہیں رہی۔جو کچھ ہو