صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 102
صحیح البخاری جلد ۱۵ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ۔۱۰۲ موت کے فتنے سے۔أطرافه: ۲۸۲۳، ۲۸۹۳، ٤۷۰۷، ٦٣٦٣٥٤٢٥، ٦٣٦٩، ٦٣٧١۔۸۰ - كتاب الدعوات ريح : التَّعَوذُ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ: زندگی اور موت کے فتنے سے پناہ مانگنا۔علامہ عینی کے نزدیک اس سے مراد زندگی کے زمانہ سے متعلقہ فتنوں اور آزمائشوں سے پناہ طلب کرنا اور موت کے زمانہ یعنی حالت نزع سے لے کر قیامت تک کے فتنوں سے پناہ مانگتا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۳ صفحہ ۵) ابن دقیق العید بیان کرتے ہیں کہ فِتْنَةِ المَخیا یعنی زندگی کے فتنہ سے مراد دنیا کے فتنے، شہوات اور جہالتیں ہیں جو انسان کو اپنی زندگی میں پیش آتے ہیں۔اور سب سے بڑا فتنہ جس سے اللہ کی پناہ چاہیئے وہ یہ ہے کہ موت کے وقت فتنہ پر خاتمہ ہو جائے۔ان کے نزدیک فِتْنَةُ الْمَمَاتِ یعنی موت کے فتنہ سے مراد موت کے وقت اور اس کے قریب قریب نیز قبر میں پیش آمدہ فتنے ہیں۔علامہ ابن حجر نے بیان کیا ہے کہ بعض کے نزدیک فِتْنَةِ الْمَحْيَا - ایسی آزمائش مراد ہے جس پر صبر کا دامن چھوٹ جائے۔نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ فِتْنَةُ الْمَمَاتِ میں عذاب قبر بھی داخل ہے اور فتنةِ المَحْیا میں فتنہ دجال بھی شامل ہے۔سے (فتح الباری شرح کتاب الأذان، باب الدعاء قبل السلام، جزء ۲ صفحه ۴۱۲) علامہ ابن بطال کہتے ہیں کہ یہ جامع کلمہ کثیر المعانی ہے۔آدمی کو چاہیے کہ جو آزمائشیں بھی آپڑیں، اُن کے اُٹھائے جانے کے لیے اور جو ابھی نازل نہیں ہوئیں، اُن کو دور کرنے کے لیے بھی اپنے رب ہی کی طرف راغب ہو اور وہ ان تمام امور میں اپنے رب ہی کو حاجت روا سمجھے۔( فتح الباری جزء ۱ ۱ صفحہ ۲۱۰) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”موت اور زندگی کے فتنہ کا تعلق فتنہ دجال سے ہے۔جیسا کہ احادیث میں اس کے متعلق ذکر ہے کہ دجال کے ساتھ جنت اور دوزخ ہو گی۔جو اس کو مانیں گے وہ جنت میں ہوں گے اور اس کو نہ ماننے والے دوزخ میں۔اس تعلق میں دیکھئے بخاری، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، روایت نمبر ۷۱۳۰۔در حقیقت موت و زندگی کا فتنہ اقتصادی بد حالی اور فقر و فاقہ کا فتنہ ہے اور چونکہ ( روایت نمبر ۸۳۲ میں ) فتنہ محیاو ممات کا ذکر فتنہ دجال کے بعد ہے اس لئے اس سے اس طرف بھی اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ فتنہ دجال کا تعلق بلحاظ عقیدہ عیسائی مذہب سے ہے، جس کی بنیاد کفارہ پر ہے۔عیسائی یقین رکھتے ہیں کہ مسیح ان کے گناہوں کی خاطر صلیب پر مرا اور پھر زندہ ہوا۔قرآن مجید میں مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنّاس کہہ کر جس شر سے پناہ مانگنے کا ارشاد ہوا ہے وہ یہی فتنہ دجال ہے۔