صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 101 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 101

صحیح البخاری جلد ۱۵ 1+1 ۸۰ - كتاب الدعوات کالعدم ہو جاتا ہے۔اور نہ کوئی مشاہدہ کرتا ہے کہ درحقیقت یہی جسم قبر میں زندہ ہوتا ہے۔اس لئے کہ بسا اوقات یہ جسم جلایا بھی جاتا ہے اور عجائب گھروں میں لاشیں بھی رکھی جاتی ہیں اور مدتوں تک قبر سے باہر بھی رکھا جاتا ہے۔اگر یہی جسم زندہ ہو جایا کرتا تو البتہ لوگ اس کو دیکھتے مگر بایں ہمہ قرآن سے زندہ ہو جانا ثابت ہے۔لہذا یہ ماننا پڑتا ہے کہ کسی اور جسم کے ذریعہ سے جس کو ہم نہیں دیکھتے انسان کو زندہ کیا جاتا ہے اور غالباً وہ جسم اسی جسم کے لطائف جوہر سے بنتا ہے۔تب جسم ملنے کے بعد انسانی قومی بحال ہوتے ہیں۔اور یہ دوسرا جسم چونکہ پہلے جسم کی نسبت نہایت لطیف ہوتا ہے اس لئے اس پر مکاشفات کا دروازہ نہایت وسیع طور پر کھلتا ہے اور معاد کی تمام حقیقتیں جیسی کہ وہ ہیں گناہی ہی نظر آجاتی ہیں۔تب خطا کرنے والوں کو علاوہ جسمانی عذاب کے ایک حسرت کا عذاب بھی ہوتا ہے۔غرض یہ اصول متفق علیہ اسلام میں ہے کہ قبر کا عذاب یا آرام بھی جسم کے ذریعہ سے ہی ہو تا ہے اور اسی بات کو دلائل عقلیہ بھی چاہتے ہیں۔کیونکہ متواتر تجربہ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ انسان کے رُوحانی قومی بغیر جسم کے جوڑ کے ہرگز ظہور پذیر نہیں ہوتے۔“ (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۷۰، ۷۱) بَاب ۳۸ : التَّعَوُّذُ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ زندگی اور موت کے فتنے سے پناہ مانگنا ٦٣٦٧: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ :۶۳۶۷: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر ( بن قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ سلیمان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: میں نے بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ كَانَ اپنے باپ سے سنا۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے : اے اللہ ! اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی اور ستی سے اور وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَأَعُوذُ بِكَ بزدلی اور انتہائی بڑھاپے سے اور تیری پناہ لیتا ہوں مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ عذاب قبر سے اور تیری پناہ لیتا ہوں زندگی اور